قومی زبان

جینا کب تک محال ہوگا

جینا کب تک محال ہوگا آخر اک دن وصال ہوگا گر نہ ٹوٹے یہ شیشۂ دل تیرا حسن کمال ہوگا تم تو تڑپا کے جا رہے ہو دل یہ کیسے بحال ہوگا چھونے والا تری جبیں کو میرا دست خیال ہوگا تیرے لب پہ رہے خموشی میرے لب پہ سوال ہوگا اس کی نبھتی بھی ہے کسی سے جوشؔ کیا تیرا حال ہوگا

مزید پڑھیے

اک ذرا تم سے شناسائی ہوئی

اک ذرا تم سے شناسائی ہوئی شہر بھر میں میری رسوائی ہوئی حسن کو کوئی بھی دے پایا نہ مات جب ہوئی عاشق کی پسپائی ہوئی دیکھنے کو کچھ نہیں تھا گر یہاں چشم بینا کیوں تماشائی ہوئی اس نے پوچھا میرے آنے کا سبب میں نے یہ جانا پذیرائی ہوئی التجا دہرا رہا ہوں پھر وہ جوشؔ جو ہے لاکھوں بار ...

مزید پڑھیے

موت بھی میری دسترس میں نہیں

موت بھی میری دسترس میں نہیں اور جینا بھی اپنے بس میں نہیں آگ بھڑکے تو کس طرح بھڑکے اک شرر بھی تو خار و خس میں نہیں قتل و غارت کھلی فضا کا نصیب ایسا خطرہ کوئی قفس میں نہیں کیا سنے کوئی داستان وفا فرق اب عشق اور ہوس میں نہیں ظلم کے سامنے ہو سینہ سپر حوصلہ اتنا ہم نفس میں ...

مزید پڑھیے

شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلے

شباب آ گیا اس پر شباب سے پہلے دکھائی دی مجھے تعبیر خواب سے پہلے جمال یار سے روشن ہوئی مری دنیا وہ چمکی دل میں کرن ماہتاب سے پہلے دل و نگاہ پہ کیوں چھا رہا ہے اے ساقی یہ تیری آنکھ کا نشہ شراب سے پہلے نہ پیش نامۂ اعمال کر ابھی اے جوشؔ حساب کیسا یہ روز حساب سے پہلے

مزید پڑھیے

وصل کا موسم ہو تو یہ سردیاں ہی ٹھیک ہیں

وصل کا موسم ہو تو یہ سردیاں ہی ٹھیک ہیں ہجر میں قربت کی یہ پرچھائیاں ہی ٹھیک ہیں کیا بتاؤں میں کہ تم نے کس کو سونپی ہے حیا اس لئے سوچا مری خاموشیاں ہی ٹھیک ہیں عشق سے بیزار دل یہ چیخ کر کہنے لگا عشق چھوڑو عاشقوں تنہائیاں ہی ٹھیک ہیں اس قدر ہم ہو چکے رسوا وفا کے نام پر اب شرافت ...

مزید پڑھیے

سفر کا شوق نہ منزل کی جستجو باقی

سفر کا شوق نہ منزل کی جستجو باقی مسافروں کے بدن میں نہیں لہو باقی تمام رات ہواؤں کا گشت جاری تھا سویرے تک نہ رہا کوئی ہو بہ ہو باقی سبھی طرح سے تعارف تو ہو گیا ان کا رہی ہے اب تو ملاقات روبرو باقی جو بھیڑ بکھرے تو دیکھوں طلب یہ کیسی ہے دیار غیر میں ہے کس کی جستجو باقی وہی نظارے ...

مزید پڑھیے

گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کا

گیتوں کا شہر ہے کہ نگر سوز و ساز کا قلب شکستہ اور یہ عالم گداز کا چاروں طرف سجی ہیں دکانیں خلوص کی چمکا ہے کاروبار ہر اک حیلہ ساز کا وہ چاہے خواب ہو کہ حقیقت مگر کبھی احساں اٹھائے گا نہ لباس مجاز کا جس طرح چاہا جائے ہے چاہا نہیں ابھی اندیشہ جان کھائے ہے افشائے راز کا بہروپیا ...

مزید پڑھیے

میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوں

میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوں کہ یہ بھی کہہ نہیں سکتا میں کون ہوں کیا ہوں انہیں خوشی ہے اسی بات سے کہ زندہ ہوں میں ان کی دائیں ہتھیلی کی ایک ریکھا ہوں میں پی گیا ہوں کئی آنسوؤں کے سیل رواں میں اپنے دل کو سمندر بنائے بیٹھا ہوں وہ میرے دوست جو ایک ایک کرکے دور ہوئے میں ...

مزید پڑھیے

حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمام

حادثوں سے بے خبر تھے لوگ دھرتی پر تمام آسماں کی نیلگوں آنکھوں میں تھے منظر تمام رفتہ رفتہ رسم سنگ باری جہاں سے اٹھ گئی دھیرے دھیرے ہو گئے بستی کے سب پتھر تمام تشنہ لب دھرتی پہ جب بہتا ہے پیاسوں کا لہو مدتوں مقتل میں سر خم رہتے ہیں خنجر تمام زندگی بکھری ہوئی ہے اس طرح فٹ پاتھ ...

مزید پڑھیے

سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں

سفر میں ایسے کئی مرحلے بھی آتے ہیں ہر ایک موڑ پہ کچھ لوگ چھوٹ جاتے ہیں یہ جان کر بھی کہ پتھر ہر ایک ہاتھ میں ہے جیالے لوگ ہیں شیشوں کے گھر بناتے ہیں جو رہنے والے ہیں لوگ ان کو گھر نہیں دیتے جو رہنے والا نہیں اس کے گھر بناتے ہیں جنہیں یہ فکر نہیں سر رہے رہے نہ رہے وہ سچ ہی کہتے ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5901 سے 6203