میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوں

میں اپنے جسم میں کچھ اس طرح سے بکھرا ہوں
کہ یہ بھی کہہ نہیں سکتا میں کون ہوں کیا ہوں


انہیں خوشی ہے اسی بات سے کہ زندہ ہوں
میں ان کی دائیں ہتھیلی کی ایک ریکھا ہوں


میں پی گیا ہوں کئی آنسوؤں کے سیل رواں
میں اپنے دل کو سمندر بنائے بیٹھا ہوں


وہ میرے دوست جو ایک ایک کرکے دور ہوئے
میں ان کو آج بھی اپنے قریب پاتا ہوں


محیط کرنے کی کوشش فضول ہے مجھ کو
ندی کا چھور نہیں ہوں میں بہتا دریا ہوں


مجھی پہ پھینکے ہے پتھر جو کوئی آتا ہے
کہ جیسے میں تری کھڑکی کا کوئی شیشہ ہوں