ناکامی
وہ جد و جہد کرنا چاہتا تھا مگر جب سے اس نے اپنے جھونپڑے کو پختہ مکان میں بدلنے کا خواب دیکھا تھا وہ کئی دائمی بیماریوں میں مبتلا ہو چکا تھا
وہ جد و جہد کرنا چاہتا تھا مگر جب سے اس نے اپنے جھونپڑے کو پختہ مکان میں بدلنے کا خواب دیکھا تھا وہ کئی دائمی بیماریوں میں مبتلا ہو چکا تھا
خوں مرا جس سے ہوا ہے خنجر احباب ہے یہ حقیقت ہے مگر لگتا ہے جیسے خواب ہے اس لیے مجھ سا نمایاں ہو گیا بے بال و پر جس جگہ میں ہوں وہاں ہر آدمی سرخاب ہے ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر ڈوب جاتا ہے وہی جو تلاش گوہر یکتا میں زیر آب ہے اب کسی جنگل میں جا رہئے کہ اپنے شہر میں آدمی ہی آدمی کے واسطے ...
مجھ ایسے شخص کی حاجت روائی کرتے ہوئے بھٹک گیا تھا وہ کار خدائی کرتے ہوئے کہ باتوں باتوں میں منزل سے دور لے گیا تھا وہ نا خدائے سخن رہنمائی کرتے ہوئے ابھی ہے ویسے کا ویسا ہی حال اندر کا کہ عمر ڈھل گئی دل کی صفائی کرتے ہوئے نصاب عشق ابھی تک ہے ماورائے خرد کہ تیس سال ہوئے ہیں ...
ورق وہی تھا مگر دوسری پرت چاہی کہ میں نے اس کی محبت سے منفعت چاہی مزا عجب تھا محبت بھری لڑائی میں کہ چھیڑ کر اسے فوری مزاحمت چاہی بچھڑتے وقت اسے مڑ کے بھی نہیں دیکھا تمام عمر جدائی میں عافیت چاہی میں اور ہی تھا جدا ہی تھا اس زمانے سے اور اس نے قیس کے جیسی مطابقت چاہی خود اپنی ...
بعد مرنے کے کوئی بوسۂ رخصت دے گا کیا خدا مجھ کو بھی ایسی بھلی قسمت دے گا زندگی ہے یہ میاں رنج و الم تو ہوں گے جو گزارے گا وہ لازم ہے کہ قیمت دے گا فرضی دنیا سے نکل اور حقیقت لکھ دے شعر پرواز کرے گا تجھے عزت دے گا دیکھ مایوس نہ ہو کفر نہیں کر پیارے بے دلی چھوڑ خدا تجھ کو بھی راحت ...
برا ہی کیا تھا جو آپ اپنی مثال ہوتے کمال ہوتے کسی طرح سے جو ٹوٹے رشتے بحال ہوتے کمال ہوتے یہ لیلیٰ مجنوں یہ ہیر رانجھا یہ شیریں فرہاد کی محبت تھی ایسی شدت کہیں جو ان کے وصال ہوتے کمال ہوتے پڑھا نہیں تھا نصاب الفت عمل میں آگے تھے ہر کسی سے سمجھتی دنیا اگر ہمیں بے مثال ہوتے کمال ...
یوں تری راہ میں پڑے ہوئے ہیں جیسے درگاہ میں پڑے ہوئے ہیں غم ہیں جتنے بھی اس زمانے کے میری اک آہ میں پڑے ہوئے ہیں میرے بچوں کے خواب تو فی الحال چھوٹی تنخواہ میں پڑے ہوئے ہیں بچ کے نکلے جو موت کے منہ سے یاد اللہ میں پڑے ہوئے ہیں کب کسی کی ہوئی ہے یہ دنیا ہم عبث چاہ میں پڑے ہوئے ...
اتنا احسان تو ہم پر وہ خدارا کرتے اپنے ہاتھوں سے جگر چاک ہمارا کرتے ہم کو تو درد جدائی سے ہی مر جانا تھا چند روز اور نہ قاتل کو اشارہ کرتے لے کے جاتے نہ اگر ساتھ وہ یادیں اپنی یاد کرتے انہیں اور وقت گزارا کرتے زندگی ملتی جو سو بار ہمیں دنیا میں ہم تو ہر بات اسے آپ پہ وارا ...
زخم کھاتے ہیں اور مسکراتے ہیں ہم حوصلہ اپنا خود آزماتے ہیں ہم آ لگا ہے کنارے سفینہ مگر شور تو عادتاً ہی مچاتے ہیں ہم ہم جو ڈوبیں تو کوئی نہ پھر بچ سکے ایسا ساگر میں طوفاں اٹھاتے ہیں ہم چور کر بھی چکے دل کے شیشے کو وہ اپنی ہمت ہے پھر چوٹ کھاتے ہیں ہم بے رخی سے جو دل توڑ دیتے ہیں ...
سر راہے کبھی کبھار سہی رس بھری اک نگاہ یار سہی ہم تو زندہ ہیں تیرے وعدوں پر تو نہیں تیرا انتظار سہی ہم لگا دیں گے عشق کی بازی نہ ملے جیت اپنی ہار سہی ہم کو ہے ایک سوہنی کی تلاش پس طوفاں چناب پار سہی اپنا منصب نبھا کہ تو ہے خدا ہم ہیں بندے گناہ گار سہی