قومی زبان

سینے میں سانس آنکھوں میں جب تک کے دم رہے

سینے میں سانس آنکھوں میں جب تک کے دم رہے باطل کے سامنے نہ مرا سر یہ خم رہے موسم بھی دل فریب ہے ماحول بھی حسین لگ جا گلے کہ کچھ تو وفا کا بھرم رہے کردار پر نہ اپنے کبھی حرف آ سکا دشمن کی محفلوں میں بھی ہم محترم رہے ویسے تو یہ جہان فسانوں کا ڈھیر ہے لیکن فسانے اپنے بہت ہی اہم ...

مزید پڑھیے

آپ رسوا ہوئے زمانے میں

آپ رسوا ہوئے زمانے میں اک ذرا آئینہ دکھانے میں وہ کسی سے بھی ڈر نہیں سکتا حق پہ چلتا ہے جو زمانے میں تو نے پرکھا بھی ہے کبھی اس کو کتنے جوہر ہیں اس دوانے میں پاس رکھنا ہے کچھ انا کا بھی یہ قباحت ہے سر جھکانے میں قہر چاروں طرف برستا ہے اک ذرا اس کے روٹھ جانے میں ظلم پر بڑھ کے ...

مزید پڑھیے

اہل دل بھی دیکھیے اب کیا سے کیا کرنے لگے

اہل دل بھی دیکھیے اب کیا سے کیا کرنے لگے شیشہ گر بھی پتھروں سے مشورہ کرنے لگے دے دیا ہے تجربات زندگی کو رخ نیا آج ہم اپنے تئیں ہر فیصلہ کرنے لگے مسئلوں کا حل نظر آئے گا کیسے دوستو ہم در اغیار پر جب التجا کرنے لگے اس لیے وہ جوجھتے ہیں روز و شب حالات سے جو ذرا سی بات پر جھگڑا کھڑا ...

مزید پڑھیے

سر دیں گے علم سرنگوں ہم ہونے نہ دیں گے

سر دیں گے علم سرنگوں ہم ہونے نہ دیں گے مٹ جائیں گے توہین حرم ہونے نہ دیں گے وہ دن گئے جھک جاتے تھے ہم آپ کے آگے اب تو سر تسلیم بھی خم ہونے نہ دیں گے یہ حسرت دیدار نکل جائے نہ جب تک اے ذوق نظارہ تجھے کم ہونے نہ دیں گے ہم نظم گلستاں کو بدل دیں گے ستم گر پھولوں پہ ہواؤں کے ستم ہونے نہ ...

مزید پڑھیے

اپنے بیمار محبت کی دوا بن جائیے

اپنے بیمار محبت کی دوا بن جائیے دل دکھانا چھوڑ دیجے دل ربا بن جائیے قوم کو گر لوٹنا ہے باسلیقہ لوٹیے چھوڑیئے ڈاکا زنی اور رہنما بن جائیے زندگی میں جو ہوا دے دیں گے محشر میں جواب کعبۃ اللہ جائیے اور پارسا بن جائیے آج کے ملاحوں پر کیجے نہ بالکل اعتبار جب بھنور میں آئے کشتی ...

مزید پڑھیے

مدام جور و جفا ہے تمہاری بستی میں

مدام جور و جفا ہے تمہاری بستی میں ستم کا باب کھلا ہے تمہاری بستی میں تمہارے حسن کی مقبولیت کا کیا کہنا ہر ایک تم پہ فدا ہے تمہاری بستی میں ستم مٹانے تم آئے تھے میری لنکا میں بتاؤ رام یہ کیا ہے تمہاری بستی میں غریبی ہٹنے نہ پائے گرانی اور بڑھے امیری محو دعا ہے تمہاری بستی ...

مزید پڑھیے

دل پہ گزری جو زباں تک نہیں لانے والے

دل پہ گزری جو زباں تک نہیں لانے والے ہم ہیں زخموں کے بہت ناز اٹھانے والے کیسی بستی ہے خدا جانے یہ اسرار ہے کیا لوٹ کر پھر نہیں آتے کبھی جانے والے تو بہت شور مچاتا ہے مرے پہلو میں ہم تری بات میں اے دل نہیں آنے والے اپنی بربادی کا ہم کو تو کوئی غم بھی نہیں کیوں قیامت یہ اٹھاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

بدن کے سارے دفینوں کو چاٹ جاتی ہے

بدن کے سارے دفینوں کو چاٹ جاتی ہے یہ مفلسی مری پرواز کاٹ جاتی ہے میں دشمنی بھی سلیقہ سے کر نہیں پاتا کہ مصلحت مری تلخی بھی پاٹ جاتی ہے کبھی تو یوں ہے کہ بازو نہیں میسر ہیں کبھی ہوا ہے کہ پرواز کاٹ جاتی ہے زباں ہی زخم لگائے یہ کیا ضروری ہے کبھی کسی کی نظر بھی تو کاٹ جاتی ...

مزید پڑھیے

تمام رات مرے ساتھ پھرتا رہتا ہے

تمام رات مرے ساتھ پھرتا رہتا ہے میں سو بھی جاؤں تو آنکھوں میں چلتا رہتا ہے بدن ہے اس کا کہ جیسے چنار کا موسم وہ اپنی آگ میں ہر رات جلتا رہتا ہے مجھے کبھی جو رہے دھوپ کا سفر در پیش وہ چھاؤں بن کے مرے ساتھ چلتا رہتا ہے وہ پیڑ سر کو جھکائے کھڑا جو رہتا ہے وہ موسموں کی بہت مار سہتا ...

مزید پڑھیے

اپنے کنبے کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی

اپنے کنبے کی یہ حالت نہیں دیکھی جاتی ہم سے ہر روز کی ہجرت نہیں دیکھی جاتی دل نے اس طور سے فرقت کے مزے لوٹے ہیں تیری آنکھوں میں محبت نہیں دیکھی جاتی تو بھی سو لے کہ ذرا تجھ کو سکوں ہو جائے شب فرقت تیری وحشت نہیں دیکھی جاتی پیاس وہ سب کی بجھا کر بھی تہی دست رہا ہم سے دریا کی یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5772 سے 6203