قومی زبان

دیار جاں پہ مسلط عجب زمانہ رہا

دیار جاں پہ مسلط عجب زمانہ رہا کہ دل میں درد لبوں پر رواں ترانہ رہا کسی پہ برق گری شاخ جاں سلگ اٹھی کسی پہ سنگ چلے سر مرا نشانہ رہا قدم قدم پہ ملی گرچہ صرصر‌ خوں ریز ہجوم گل اسی انداز سے روانہ رہا عدوئے دوست کبھی مجھ کو معتبر نہ ہوا ازل سے اپنا یہ معیار دوستانہ رہا جو قدر فن کا ...

مزید پڑھیے

پیچ و خم وقت نے سو طرح ابھارے لوگو

پیچ و خم وقت نے سو طرح ابھارے لوگو کاکل زیست مگر ہم نے سنوارے لوگو اپنے سائے سے تمہیں آپ ہے دہشت زدگی تم ہو کس مصلحت وقت کے مارے لوگو ہم سفر کس کو کہیں کس کو سنائیں غم دل پنبہ در گوش ہوئے سارے سہارے لوگو ضربت سنگ بنے اپنی صدا کے غنچے گنبد جہد میں ہم جب بھی پکارے لوگو مجھ سے تم ...

مزید پڑھیے

کیا دور ہے کہ جو بھی سخنور ملا مجھے

کیا دور ہے کہ جو بھی سخنور ملا مجھے گم گشتہ اپنی ذات کے اندر ملا مجھے کس پیار سے گیا تھا تری آستیں کے پاس شاخ حنا کی چاہ میں خنجر ملا مجھے اس ظلمت حیات میں اک لفظ پیار کا جب مل گیا تو ماہ منور ملا مجھے صورت‌ گران عصر کا تھا انتظار کش تیری رہ طلب میں جو پتھر ملا مجھے روز ازل سے ...

مزید پڑھیے

جب سے ہے باد خزاں صرصر غم آوارہ

جب سے ہے باد خزاں صرصر غم آوارہ خشک پتوں کی طرح رہتے ہیں ہم آوارہ کچھ تو ہے بات کہ ہے موسم گل کے با وصف بوئے گل بوئے صبا بوئے صنم آوارہ کنج در کنج ستم خوردہ غزالوں کو ابھی تا بہ کے رکھے گی یہ لذت رم آوارہ حجلہ سنگ سر رہ میں نہ جانے کتنے رونمائی کو ہیں بیتاب صنم آوارہ ہے غم زیست ...

مزید پڑھیے

فاصلہ

زمانہ وہ بھی تھا اب سے پہلے کسی خبر کو کہیں رسائی کے واسطے اک صدی کا عرصہ لگانا پڑتا تھا اس کے با وصف کبھی مسافر کو بازیابی نصیب ہوتی تھی اور کبھی راستے میں دم اس کا ٹوٹ جاتا تھا مسافتوں کا طویل دھاگا اگرچہ گولے میں اٹ گیا ہے طناب دھرتی کی یوں کھنچی ہے جہاں کہیں ہو رہا ہے جو کچھ ...

مزید پڑھیے

پرندے

پرندہ جو ہونٹوں پہ پر تولتا تھا اسے باز رکھنے کی خاطر اک آسیب تھا میرے در پے قد اس کا فلک ناپتا تھا نگاہیں اٹھاؤ جو چہرے کی جانب تو گھٹنے سے اٹکیں مجھے اس نے مہرے کی صورت اٹھایا اور اک سوئمنگ پول میں لا کے ڈالا وہ یہ چاہتا تھا کہ پانی میں یہ آگ بھڑکانے والی حسیں مچھلیاں مجھ کو ...

مزید پڑھیے

خالی ہاتھ سوالی چہرے

ہم بھی ہیں اس شہر کے باسی جس نے لاکھوں ہاتھوں میں کشکول دیا ہے کل تک تھا یہ اپنا عالم راہ میں وا ہاتھوں میں جب تک اک اک چونی رکھ نہیں دیتے دل کو چین نہیں آتا تھا گھر والی بھی اک دو خالی پیٹ میں دانے پہنچا کر ہی خود کھانے میں سکھ پاتی تھی آج یہ منزل آ پہنچی ہے کل سے زیادہ خالی ہاتھ ...

مزید پڑھیے

اجازت جو ہوتی تو اک بار روتا

اجازت جو ہوتی تو اک بار روتا میں دو تین گھنٹے لگاتار روتا یہ مذہب نہ ہوتے اگر بیچنے کو دکانیں بھی روتی یہ بازار روتا میں گھر آ گیا ہوں سڑک رو رہی ہے اگر میں نہ آتا تو گھر بار روتا یہ کہہ کر کہ رونا ہے کمزور کا کام میں منہ کو چھپا کر میرے یار روتا کوئی مجھ سے کہتا کہ جی بھر کے رو ...

مزید پڑھیے

کھیل تو بالکل عیاں ہے

کھیل تو بالکل عیاں ہے چور گھر کا پاسباں ہے سو گئی ہے روح کب کی بس بدن ہی تو رواں ہے ہے بڑی لمبی کہانی آسماں پر آسماں ہے گونجتی آواز کوئی شخص کوئی ہم زباں ہے جانتا ہوں سب حقیقت یہ مجھے کیسا گماں ہے جو بھی چاہے جڑ رہا ہے عشق ہے یا کارواں ہے مسئلہ پوچھا کہ کیا ہے تو فلاں بولا ...

مزید پڑھیے

بات یہ ہم لوگ اکثر سوچتے ہیں

بات یہ ہم لوگ اکثر سوچتے ہیں سوچنے سے ہوگا کیا پر سوچتے ہیں گھر چلے آتے ہیں جن سے بچ بچا کر وہ ہی چیزیں گھر پہ آ کر سوچتے ہیں رات کو ہم دیکھتے ہیں خواب تیرے اور پھر وہ خواب دن بھر سوچتے ہیں ہم کو تو یہ کام آتا بھی نہیں پر بات تیری ہو تو پھر پھر سوچتے ہیں بولتے ہیں سوچنا ہی چھوڑ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5715 سے 6203