قومی زبان

میری اس دھڑکن کی سرگم یعنی تم

میری اس دھڑکن کی سرگم یعنی تم میرے ان زخموں کا مرہم یعنی تم مٹی دلدل کالے بادل یعنی میں جھیل و جھرنے اچھا موسم یعنی تم لوگوں کا غم ہوں میں میرا غم یہ دل ہاں لیکن میرے دل کا غم یعنی تم اک خاموش کھڑی دلہن ہے یہ دنیا دلہن کی پائل کی چھم چھم یعنی تم تم کو سوچا تو ایسی تصویر ...

مزید پڑھیے

اک اک کر کے پولیں ساری کھولوں گا

اک اک کر کے پولیں ساری کھولوں گا لیکن اتنی جلدی تھوڑی کھولوں گا اس خوشبو سے بس اس کو مہکانا ہے میں موقع آنے پر شیشی کھولوں گا مل جائے گا چہرہ میرے مطلب کا تب جا کر آنکھوں کی پٹی کھولوں گا تم نے وقت لیا تھا سکہ چننے میں سو میں بھی اب دیر سے مٹھی کھولوں گا یوں نہ لگے میں اس کی راہ ...

مزید پڑھیے

تیر اندازوں کو اندازہ نہیں

تیر اندازوں کو اندازہ نہیں زد میں آنا تھا جسے آیا نہیں کچھ تصور کچھ توقع کچھ گماں یہ بھی کیا خوابوں کا خمیازہ نہیں ساری بستی میں فقط اک تیری ذات قبلہ و کعبہ سہی کعبہ نہیں جس ہوا میں تو ہے آقائے چمن کوئی بھی جھونکا وہاں تازہ نہیں دھول کی آنکھوں میں جا ہوتی نہیں پاؤں میں لگتا ...

مزید پڑھیے

جو نہیں لگتی تھی کل تک اب وہی اچھی لگی

جو نہیں لگتی تھی کل تک اب وہی اچھی لگی دیکھ کر اس کو جو دیکھا زندگی اچھی لگی تھک کے سورج شام کی بانہوں میں جا کر سو گیا رات بھر یادوں کی بستی جاگتی اچھی لگی منتظر تھا وہ نہ ہم ہوں تو ہمارا نام لے اس کی محفل میں ہمیں اپنی کمی اچھی لگی وقت رخصت بھیگتی پلکوں کا منظر یاد ہے پھول سی ...

مزید پڑھیے

ہر اہتمام ہے دو دن کی زندگی کے لیے

ہر اہتمام ہے دو دن کی زندگی کے لیے سکون قلب نہیں پھر بھی آدمی کے لیے تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے نہ کھا فریب وفا کا یہ بے وفا دنیا کبھی کسی کے لیے ہے کبھی کسی کے لیے یہ دور شمس و قمر یہ فروغ علم و ہنر زمین پھر بھی ترستی ہے روشنی کے لیے کبھی اٹھے ...

مزید پڑھیے

گلہ کس سے کریں اغیار دل آزار کتنے ہیں

گلہ کس سے کریں اغیار دل آزار کتنے ہیں ہمیں معلوم ہے احباب بھی غم خوار کتنے ہیں سکت باقی نہیں ہے قم باذن للہ کہنے کی مسیحا بھی ہمارے دور کے بیمار کتنے ہیں یہ سوچو کیسی راہوں سے گزر کر میں یہاں پہنچا یہ مت دیکھو مرے دامن میں الجھے خار کتنے ہیں جو سوتے ہیں نہیں کچھ ذکر ان کا وہ تو ...

مزید پڑھیے

نئی صبح چاہتے ہیں نئی شام چاہتے ہیں

نئی صبح چاہتے ہیں نئی شام چاہتے ہیں جو یہ روز و شب بدل دے وہ نظام چاہتے ہیں وہی شاہ چاہتے ہیں جو غلام چاہتے ہیں کوئی چاہتا ہی کب ہے جو عوام چاہتے ہیں اسی بات پر ہیں برہم یہ ستم گران عالم کہ جو چھن گیا ہے ہم سے وہ مقام چاہتے ہیں کسے حرف حق سناؤں کہ یہاں تو اس کو سننا نہ خواص چاہتے ...

مزید پڑھیے

محبوبہ بھی ایسی ہو

دور کہیں کوئل کی کو‌ کو گونج رہی ہے نیل گگن پہ کالے بادل ڈول رہے ہیں اور کھیتوں میں پگلی پون ہرے بھرے مکے کے مکھ کو چوم رہی ہے اک عاشق جو محبوبہ سے بچھڑ گیا ہے اونچی فصلوں بانس کے جھنڈوں میں وہ اس کو ڈھونڈ رہا ہے کاش کہ میرا گاؤں ہو ایسا محبوبہ بھی ایسی ہو رنگ برنگی تتلیاں اڑ کر جس ...

مزید پڑھیے

کائی بھرے گنبد کا نوحہ

کاش نہ ہوتا تو اچھا تھا ایسا بھی ہوتا ہے جگ میں رب کے ہم سایے کی ایسے رب کے پجاری جاں لیتے ہیں دن بڑا غمگیں سا تھا وہ سورج بھی رویا تھا پہروں صدیوں کی وہ رات عجب تھی جیسے روحیں چیخ رہی ہوں صبح کی چنچل ہوا جو آئی جانے کس کو ڈھونڈ رہی تھی بولائی بولائی سی پھول پرندے سب گم صم تھے پیڑوں ...

مزید پڑھیے

جانے کیوں ایسا ہوں میں

لمبے وقت سے سوچ رہا ہوں جانے کیوں ایسا ہوں میں ملنے سے گھبراتا ہوں میں جھوٹ نہیں کہہ پاتا ہوں اس کے شکوے اس کی شکایت جھگڑے سے ڈر جاتا ہوں ادھر ادھر کی باتیں مجھ کو ذرا نہ خوش کر پاتی ہیں جانے کیوں ایسا ہوں میں دوست نہیں بن پاتے میرے رشتے نہیں سنبھلتے ہیں بے جا محبت بے جا تکلف دونوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5716 سے 6203