قومی زبان

ہوا ختم دریا تو صحرا لگا

ہوا ختم دریا تو صحرا لگا سفر کا تسلسل کہاں جا لگا عجب رات بستی کا نقشہ لگا ہر اک نقش اندر سے ٹوٹا لگا تمہارا ہزاروں سے رشتہ لگا کہو سائیں کا کام کیسا لگا ابھی کھنچ ہی جاتی لہو کی دھنک میاں تیر ٹک تیرا ترچھا لگا لہو میں اترتی رہی چاندنی بدن رات کا کتنا ٹھنڈا لگا تعجب کے سوراخ ...

مزید پڑھیے

پھر کسی خواب کے پردے سے پکارا جاؤں

پھر کسی خواب کے پردے سے پکارا جاؤں پھر کسی یاد کی تلوار سے مارا جاؤں پھر کوئی وسعت آفاق پہ سایہ ڈالے پھر کسی آنکھ کے نقطے میں اتارا جاؤں دن کے ہنگاموں میں دامن کہیں میلا ہو جائے رات کی نقرئی آتش میں نکھارا جاؤں خشک کھوئے ہوئے گمنام جزیرے کی طرح درد کے کالے سمندر سے ابھارا ...

مزید پڑھیے

ہاتھ میں آفتاب پگھلا کر

ہاتھ میں آفتاب پگھلا کر رات بھر روشنی سے کھیلا کر یوں کھلے سر نہ گھر سے نکلا کر دیکھ بوڑھوں کی بات مانا کر آئنہ آئینے میں کیا دیکھے ٹوٹ جاتے ہیں خواب ٹکرا کر ایک دم یوں اچھل نہیں پڑتے بات کے پینترے بھی سمجھا کر دیکھ ٹھوکر بنے نہ تاریکی کوئی سویا ہے پاؤں پھیلا کر اونٹ جانے ...

مزید پڑھیے

سڑکوں پر سورج اترا

سڑکوں پر سورج اترا سایہ سایہ ٹوٹ گیا جب گل کا سینہ چیرا خوشبو کا کانٹا نکلا تو کس کے کمرے میں تھی میں تیرے کمرے میں تھا کھڑکی نے آنکھیں کھولی دروازے کا دل دھڑکا دل کی اندھی خندق میں خواہش کا تارا ٹوٹا جسم کے کالے جنگل میں لذت کا چیتا لپکا پھر بالوں میں رات ہوئی پھر ہاتھوں ...

مزید پڑھیے

وہ تم تک کیسے آتا

وہ تم تک کیسے آتا جسم سے بھاری سایہ تھا سارے کمرے خالی تھے سڑکوں پر بھی کوئی نہ تھا پیچھے پیچھے کیوں آئے آگے بھی تو رستہ تھا کھڑکی ہی میں ٹھٹھر گئی کالی اور چوکور ہوا دیواروں پر آئینے آئینوں میں سبز خلا بیٹھی تھی وہ کرسی پر دانتوں میں انگلی کو دبا بوٹی بوٹی جلتی تھی اس کا ...

مزید پڑھیے

پتھرپر تصویر بنا کر

پتھر پر تصویر بنا کر پانی میں چھپ جاتا ہے صحرا صحرا خاک اڑاتا جنگل میں لہراتا ہے سوکھے پتوں کو کھڑکاتا سبزے سے شرماتا ہے صدیوں کے تاریک کھنڈر میں جب آواز لگاتا ہے لا محدود خلا کے لب پر خاموشی بن جاتا ہے

مزید پڑھیے

درد تنہائی کی پسلی سے نکل کر آیا

درد تنہائی کی پسلی سے نکل کر آیا رات کا ہاتھ لگا اور ہوا ٹوٹ گئی سورجی آگ میں جھلسا گیا سایا سایا روح کی آنکھ کھلی چاند شکستہ پایا نیلے آکاش کے نیزوں پہ سیاہی چمکی وقت کے جسم میں لمحوں کی کمانیں ٹوٹیں پاؤں میں پھانس چبھی آنکھ میں رستہ نکلا درد تنہائی کی پسلی سے نکل کر آیا

مزید پڑھیے

الف لفظ و معانی سے مبرا

الف لفظ و معانی سے مبرا الف تنہائی کا روشن ہیولیٰ الف آزاد آوازوں کے شر سے الف بے باک ہر عیب و ہنر سے الف تکمیلی مرکز کا محرک الف ہر لمحے کے سینے میں دھڑکن الف صدیوں کے صحرا پر مسلط الف آبی نہ سیمابی تسلسل تسلسل سانس کی زنجیر آہنگ تسلسل خواب کی تعبیر بے رنگ تسلسل لفظ کی تفسیر ...

مزید پڑھیے

سیاہ چاند کے ٹکڑوں کو میں چبا جاؤں

سیاہ چاند کے ٹکڑوں کو میں چبا جاؤں سفید سایوں کے چہروں سے تیرگی ٹپکے اداس رات کے بچھو پہاڑ چڑھ جائیں ہوا کے زینے سے تنہائیاں اترنے لگیں سجائے جائیں چھتوں پر مری ہوئی آنکھیں پلنگ ریت کے خوابوں کے ساتھ سو جائے کسی کے رونے کی آواز آئے سورج سے ستارے غار کی آنتوں میں ٹوٹتے جائیں میں ...

مزید پڑھیے

وقت کی پیٹھ پر

وقت کی پیٹھ پر کچے لمحوں کے دھاگوں میں لپٹا ہوا شہر کی سیڑھیوں پر سرکتا ہوا نت نئے خودکشی کے طریقوں کا موجد بنا حبشی راتوں کے جنگل میں بکھری ہوئی لمس کی ہڈیاں چن رہا ہوں نہ جانے میں کس کے لیے جب مرے نام کے لفظ تنہا تھے لوگو تمہیں سرخ ہونٹوں کی خیرات کیسے ملی یہ بتاؤ ریفریجیٹر میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5688 سے 6203