جب اپنا سایہ ہی دشمن ہے کیا کیا جائے
جب اپنا سایہ ہی دشمن ہے کیا کیا جائے یہی تو ذہن کی الجھن ہے کیا کیا جائے ہیں جس کے ہاتھ میں ذرے بھی ماہ و انجم بھی اسی کے ہاتھ میں دامن ہے کیا کیا جائے اداس بام پہ موسم نے کھول دیں زلفیں کسی بیوگ میں جوگن ہے کیا کیا جائے وہ شام لطف و طرب اور چاندنی سا بدن اسی خمار میں ناگن ہے کیا ...