میری وحشت کا نظارہ نہیں ہوتا مجھ سے
میری وحشت کا نظارہ نہیں ہوتا مجھ سے اپنا ہونا بھی گوارہ نہیں ہوتا مجھ سے میں جو یہ معجزۂ عشق لیے پھرتا ہوں ایک جگنو بھی ستارہ نہیں ہوتا مجھ سے گھیر رکھا ہے مجھے چاروں طرف سے اس نے اس تعلق سے کنارہ نہیں ہوتا مجھ سے میں ہوں دہلیز پہ رکھے ہوئے پتھر کی طرح اب محبت میں گزارہ نہیں ...