قومی زبان

میری وحشت کا نظارہ نہیں ہوتا مجھ سے

میری وحشت کا نظارہ نہیں ہوتا مجھ سے اپنا ہونا بھی گوارہ نہیں ہوتا مجھ سے میں جو یہ معجزۂ عشق لیے پھرتا ہوں ایک جگنو بھی ستارہ نہیں ہوتا مجھ سے گھیر رکھا ہے مجھے چاروں طرف سے اس نے اس تعلق سے کنارہ نہیں ہوتا مجھ سے میں ہوں دہلیز پہ رکھے ہوئے پتھر کی طرح اب محبت میں گزارہ نہیں ...

مزید پڑھیے

سمٹے ہیں خود میں ایسے کہ وسعت نہیں رہی

سمٹے ہیں خود میں ایسے کہ وسعت نہیں رہی تسخیر کائنات کی ہمت نہیں رہی اب کے خزاں کے خوف سے پتے نہیں جھڑے شاید ہوا کے دل میں کدورت نہیں رہی میں نے کہا کہ کوئی ہو خدمت مرے حضور اس نے کہا کہ تیری ضرورت نہیں رہی جکڑا ہوا ہوں وقت کی آکاس بیل میں اس کرب سے فرار کی صورت نہیں رہی چہروں کی ...

مزید پڑھیے

دیا روشن ہے لیکن تیرگی کا رقص جاری ہے

دیا روشن ہے لیکن تیرگی کا رقص جاری ہے خرد حیرت زدہ ہے بے بسی کا رقص جاری ہے تصور آئینہ خانہ ہے ہر تصویر افسردہ بکھرتی کرچیوں میں زندگی کا رقص جاری ہے مسخر کر لیا انساں نے عجلت میں ستاروں کو محبت مر رہی ہے آگہی کا رقص جاری ہے جو کہنا تھا نہیں کہتے جو کہتے ہیں وہ بے معنی کہی ہے ان ...

مزید پڑھیے

دم

جناب دم کی عجب نفسیات ہوتی ہے کہ اس کی جنبش ادنیٰ میں بات ہوتی ہے وفا کے جذبے کا اظہار دم ہلانا ہے جو دم کھڑی ہے وہ نفرت کا تازیانہ ہے جو لمبی دم ہے وہ عالی صفات ہوتی ہے جو مختصر ہے بڑی واہیات ہوتی ہے وہ جان دار مکمل نہیں ادھورا ہے وہ جس کے دم نہیں ہوتی ہے وہ لنڈورا ہے جہاں میں ...

مزید پڑھیے

تضاد و مصلحت

کہیں اک بھول سے جنت نکل جاتی ہے قدموں سے کہیں اس کو بھلانے سے بھی صاحب کچھ نہیں ہوتا کہیں آنسو بہانے سے بصارت لوٹ آتی ہے کہیں گھر کو لٹانے سے بھی صاحب کچھ نہیں ہوتا کہیں دریا کی موجیں فیصلہ کرتی ہیں ظالم کا کہیں دریا پہ جانے سے بھی صاحب کچھ نہیں ہوتا کہیں یہ خوئے خوں ریزی ...

مزید پڑھیے

قرب الٰہی

میں تھا قرب الٰہی سے شاد و مگن اس سے محو سخن کہ اچانک وہیں ہاں حرم کے قریب ایک معصوم بچی نے دیکھا مجھے اس کی نظروں میں تو حسرت و یاس تھی اک زمانے کی شاید وہاں پیاس تھی ماں کی ممتا کی پیاس بابا جانی کی پیاس گھر کے آنگن کی پیاس خوش لباسی کی پیاس کھانے پانی کی پیاس کھوئے بچپن کی ...

مزید پڑھیے

خواب

میں نے خواب دیکھا تھا پانیوں کے پار اک دن بستی اک بساؤں گا جس کے رہنے والوں میں نفرتیں نہیں ہوں گی صرف قربتیں ہوں گی بس محبتیں ہوں گی یوں ہوا کہ پھر اک دن اک اڑن کھٹولے نے لا کھڑا کیا مجھ کو میری خواب بستی میں نا شناس بستی کے خوش نما مکانوں میں قربتیں تو کم کم تھیں دوریاں زیادہ ...

مزید پڑھیے

موج در موج ہواؤں سے بچا لاؤں گا

موج در موج ہواؤں سے بچا لاؤں گا خود کو میں دشت کے پنجوں سے چھڑا لاؤں گا حوصلہ رکھئے میں صحرا سے پلٹ آؤں گا ذرے ذرے سے محبت کا پتہ لاؤں گا میرے ہاتھوں کی لکیروں میں جو ہیں الجھے ہوئے ان ہی گیسو کے لیے پھول بچا لاؤں گا تیرے ماتھے پہ چمکتے ہوئے رنگوں کی قسم ترے ہونٹوں پہ ترنم کی ...

مزید پڑھیے

کشتیوں سے اتر نہ جائیں کہیں

کشتیوں سے اتر نہ جائیں کہیں لوگ طوفان سے ڈر نہ جائیں کہیں زندگی ہے کہ آگ کا دریا شدت غم سے مر نہ جائیں کہیں جن کو ظلمت نے باندھ رکھا ہے چاندنی میں بکھر نہ جائیں کہیں روک اشکوں کو اب سر مژگاں یہ بھی حد سے گزر نہ جائیں کہیں آؤ لکھ لیں لہو سے عہد وفا قول سے ہم مکر نہ جائیں کہیں ان ...

مزید پڑھیے

اے دوست تری بات سحر خیز بہت ہے

اے دوست تری بات سحر خیز بہت ہے پر طرز تکلم ترا خوں ریز بہت ہے گم صم سا کھڑا ہے کوئی دروازۂ دل پر اس شام کا منظر تو دل آویز بہت ہے محفل میں ترے ہونے سے ہے رنگ پہ موسم احوال خاص و عام طرب خیز بہت ہے اک شخص جو الجھا ہے نئی فکر و نظر میں وہ صاحب خوش فہم ہے اور تیز بہت ہے جو بات تو کہتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5671 سے 6203