قومی زبان

بغیر اپنے کسی مطلب کے الفت کون کرتا ہے

بغیر اپنے کسی مطلب کے الفت کون کرتا ہے یہ دنیا ہے یہاں بے لوث چاہت کون کرتا ہے گوارا لطف فرمانی کی زحمت کون کرتا ہے محبت کرنے والے سے محبت کون کرتا ہے کبھی آئینہ لے کر حسن سے اپنی ذرا پوچھو نظر کو دل کو پابند محبت کون کرتا ہے محبت میں بھی کرتا ہوں محبت تم بھی کرتی ہو مگر دونوں ...

مزید پڑھیے

نوجوانی میں عجب دل کی لگی ہوتی ہے

نوجوانی میں عجب دل کی لگی ہوتی ہے غم کے سہنے میں بھی انساں کو خوشی ہوتی ہے پیار جب پیار کی منزل پہ پہنچ جاتا ہے ہنستے چہروں کے بھی آنکھوں میں نمی ہوتی ہے پاس رہتے ہیں تو دل محو طرب رہتا ہے دور ہوتے ہیں تو محسوس کمی ہوتی ہے جب بھی ہوتا ہے گماں ان سے کہیں ملنے کا دل کے ارمانوں میں ...

مزید پڑھیے

اگر بدلا کبھی رخ بے رخی کا

اگر بدلا کبھی رخ بے رخی کا تو آئے گا مزہ کچھ زندگی کا مجھے برباد کر کے ہنس رہے ہو لیا ہے تم نے یہ بدلا کبھی کا اسی امید پر غم سہ رہا ہوں کبھی تو آئے گا موقع خوشی کا مجھے دل سے بھلانا چاہتے ہو یہی ہے مدعا دامن کشی کا محبت میں گئی عزت تو کیا غم یہاں یہ حشر ہوتا ہے سبھی کا کبھی ہوگا ...

مزید پڑھیے

پیش آنے لگے ہیں نفرت سے

پیش آنے لگے ہیں نفرت سے بھر گیا ان کا دل محبت سے فائدہ یہ ہے تیری قربت سے خوب کٹتا ہے وقت راحت سے کام بنتے نہیں ہیں نفرت سے کام چلتے ہیں سب محبت سے ان کی خاطر مجھے جہاں والے دیکھتے ہیں بڑی حقارت سے زندگی میری اک مصیبت تھی مل گئے آپ مجھ کو قسمت سے ساری دنیا حریف ہے میری اک ذرا ...

مزید پڑھیے

آپ کے دل کو مرے دل سے کہیں پیار نہ ہو

آپ کے دل کو مرے دل سے کہیں پیار نہ ہو زندگی میری طرح آپ کی دشوار نہ ہو ماننے سے مری ڈر ہے انہیں انکار نہ ہو یہ مری عرض تمنا کہیں بیکار نہ ہو شوق سے ربط محبت کو بڑھائیں لیکن حد سے بڑھ کر یہ محبت کہیں آزار نہ ہو زندگی رشک کے قابل ہو محبت میں اگر دل کی ہر بات پہ اقرار ہو انکار نہ ...

مزید پڑھیے

اظہار محبت

تم اتنے حسیں ہو تم ایسے حسیں ہو حقیقت میں تم تو ثریا جبیں ہو میں کہہ دوں اگر کچھ تمہیں بھی یقیں ہو تمہیں پیار کرنے کو جی چاہتا ہے لبوں پر ہنسی ہے گلابی گلابی نگاہوں کی جنبش شرابی شرابی تمہارا چہرہ کتابی کتابی تمہیں پیار کرنے کو جی چاہتا ہے تمہاری نگاہیں پیام محبت خموشی تمہاری ...

مزید پڑھیے

میں پچھتا رہا ہوں

مصیبت میں خود کو گرفتار کرکے جوانی کو اپنی اک آزار کرکے بنا کر تمہیں رازداں زندگی کا ولی راز کا تم پہ اظہار کرکے میں پچھتا رہا ہوں تمہیں پیار کرکے میں سمجھا تھا محسن ستم گار نکلے وفادار سمجھا جفا کار نکلے سمجھتا رہا تم کو گل سے بھی بہتر مگر گل کے پردے میں تم خار نکلے میں پچھتا رہا ...

مزید پڑھیے

محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

تیری دنیا میں تو نفرت کا جہاں بستا ہے میری دنیا میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں تیرے دل کو تو ہزاروں کی لگن رہتی ہے میرے دل میں تری حسرت کے سوا کچھ بھی نہیں تیری عادت میں عداوت کی فراوانی ہے میری عادت میں مروت کے سوا کچھ بھی نہیں تیرے عالم میں تخیل ہے حسیں باتوں کا میرے عالم میں تو ...

مزید پڑھیے

بیاں ہو کس طرح سوز و الم کی داستاں میری

بیاں ہو کس طرح سوز و الم کی داستاں میری نہ ساتھی کوئی سنتا ہے نہ میر کارواں میری مرا شوق تکلم مجھ کو کس محفل میں لے آیا یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری زباں پر ثبت گر مہر ستم گر ہے تو کیا غم ہے کہ میری خامشی ہی بن رہی ہے اب زباں میری مجھے اے باغباں شکوہ ہو کیوں قید و سلاسل ...

مزید پڑھیے

آدم زاد کی دعا

زمیں کی تنگیوں کو اپنی بخشش سے کشادہ کر کہ سجدہ کر سکوں یہ کیا کہ میرے حوصلوں میں رفعتیں ہیں اور گرتا جا رہا ہوں اپنی فطرت کے نشیبوں میں تری کوتاہیاں میری انا کی سرحدیں ہیں کیا یہ دیواریں سدا اٹھتی رہیں گی میرے سینے پر بتا یہ رنگیں یہ دوریاں پیدا ہوئی ہیں کس کی دانش سے بتا میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5632 سے 6203