قومی زبان

وقت ان کا دشمن ہے

وہ کسی گیلیلیو کا انتظار نہیں کر رہے ہیں ایک بڑی گھڑی تیار کرنے کے لیے جسے شہر کی ایک یادگاری دیوار میں نصب کیا جا سکے اس خلا میں ہماری تاریخ کی عکاسی کے علاوہ خواتین کے عالمی دن پر جھولا ڈالا جا سکتا ہے چینی طائفہ بانس سے اچھل کر اس میں سے گزر سکتا ہے اس میں ایک لاش کو مختصر کر کے ...

مزید پڑھیے

ایک نئی زبان کا سیکھنا

سمندر کے قریب ایک عمارت میں جہاں میرے اور پڑوس کے کتے کے سوا کوئی تنہا نہیں پہنچتا میں ایک نئی زبان سیکھ رہا ہوں اپنے آپ سے باتیں کرنے کے لیے

مزید پڑھیے

آخری دلیل

تمہاری محبت اب پہلے سے زیادہ انصاف چاہتی ہے صبح بارش ہو رہی تھی جو تمہیں اداس کر دیتی ہے اس منظر کو لا زوال بننے کا حق تھا اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے تمہیں ایک محاصرے میں آئے دل کی یاد نہیں آئی ایک گم نام پل پر تم نے اپنے آپ سے مضبوط لہجے میں کہا مجھے اکیلے رہنا ہے محبت کو ...

مزید پڑھیے

صرف غیر اہم شاعر

صرف غیر اہم شاعر یاد رکھتے ہیں بچپن کی غیر ضروری اور سفید پھولوں والی تام چینی کی پلیٹ جس میں روٹی ملتی ہے صرف غیر اہم شاعر بے شرمی سے لکھ دیتے ہیں اپنی نظموں میں اپنی محبوبہ کا نام صرف غیر اہم شاعر یاد رکھتے ہیں بدتمیزی سے تلاشی لیا ہوا ایک کمرہ باغ میں کھڑی ہوئی ایک لڑکی کی ...

مزید پڑھیے

کون شاعر رہ سکتا ہے

لفظ اپنی جگہ سے آگے نکل جاتے ہیں اور زندگی کا نظام توڑ دیتے ہیں اپنے جیسے لفظوں کا گٹھ بنا لیتے ہیں اور ٹوٹ جاتے ہیں ان کے ٹوٹے ہوئے کناروں پر نظمیں مرنے لگتی ہیں لفظ اپنی ساخت اور تقدیر میں کمزور ہو جاتے ہیں معمولی شکست ان کو ختم کر دیتی ہے ان میں ٹوٹ کر جڑ جانے سے محبت نہیں رہ ...

مزید پڑھیے

دو زبانوں میں سزائے موت

ہمیشہ پر سکون رہنے والی مالازیبتبام کیمپ گارڈ سے نکل گئی اس کے ساتھ ایڈورڈؔ بھی جو اس پر عاشق تھا ''مجھے ہاتھ مت لگاؤ'' پھر سے گرفتار ہونے پر اس نے کہا ہاتھ گاڑی میں ڈال کر اس کا جسم دور تک لے جایا گیا بچ نکلنے کے باوجود ایڈورڈؔ اس دن واپس آ گیا اسے دو زبانوں میں سزائے موت دی ...

مزید پڑھیے

سمندر نے تم سے کیا کہا

سمندر نے تم سے کیا کہا استغاثہ کے وکیل نے تم سے پوچھا اور تم رونے لگیں جناب عالی یہ سوال غیر ضروری ہے صفائی کے وکیل نے تمہارے آنسو پونچھتے ہوئے کہا عدالت نے تمہارے وکیل کا اعتراض اور تمہارے آنسو مسترد کر دئیے آنسو ریکارڈ روم میں چلے گئے اور تم اپنی کوٹھری میں یہ شہر سطح سمندر سے ...

مزید پڑھیے

ہم نے کچھ پنکھ جو دالان میں رکھ چھوڑے ہیں

ہم نے کچھ پنکھ جو دالان میں رکھ چھوڑے ہیں پنچھی آ جائیں گے اس دھیان میں رکھ چھوڑے ہیں سربلندی ہو کہ اے رہ گزر دل ہم نے سارے جھگڑے ہی تری شان میں رکھ چھوڑے ہیں ایسا آشوب توازن تھا کہ پتھر سارے کھینچ کر پلۂ میزان میں رکھ چھوڑے ہیں سوچتا ہوں کہ وہ ایمان ہی لے آئے کبھی رخنے کچھ ...

مزید پڑھیے

جنگ سے جنگل بنا جنگل سے میں نکلا نہیں

جنگ سے جنگل بنا جنگل سے میں نکلا نہیں ہو گیا اوجھل مگر اوجھل سے میں نکلا نہیں دعوت‌ افتاد رکھی چھل سے میں نکلا نہیں نکلے بھی کس بل مگر کس بل سے میں نکلا نہیں دیکھتے رہنا ترا مسحور چھت پر کر گیا اس قدر بارش ہوئی جل تھل سے میں نکلا نہیں جیسے تو ہی تو ہو میری نیند سے لپٹا ہوا جیسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5622 سے 6203