پانی شجر پہ پھول بنا دیکھتا رہا
پانی شجر پہ پھول بنا دیکھتا رہا اور دشت میں ببول بنا دیکھتا رہا ایام کے غبار سے نکلا تو دیر تک میں راستوں کو دھول بنا دیکھتا رہا تو بازوؤں میں بھر کے گلابوں کو سو رہی میں بھی خزاں کا پھول بنا دیکھتا رہا کونپل سے ایک لب سے فراموش ہو کے میں کس گفتگو میں طول بنا دیکھتا رہا بادہ ...