تسلسل
کب سے سنسان خرابوں میں پڑا تھا یہ جہاں کب سے خوابیدہ تھے اس وادئ خارا کے صنم کس کو معلوم یہ صدیوں کے پراسرار بھرم کون جانے کہ یہ پتھر بھی کبھی تھے انساں صرف لب دوختہ پربت ہیں جہاں نوحہ کناں نہ در و بام نہ دیوار و دریچہ کوئی کوئی دہلیز شکستہ نہ حریم ویراں شہر کے شہر ہیں پاتال کے ...