قومی زبان

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا

اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے میں نے تو اس ...

مزید پڑھیے

کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے

کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے وہ خار خار ہے شاخ گلاب کی مانند میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے میں کیسے بات کروں اب کہاں سے لاؤں اسے مگر وہ زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے اگر یاد کچھ دلاؤں ...

مزید پڑھیے

پھر اسی رہ گزار پر شاید

پھر اسی رہ گزار پر شاید ہم کبھی مل سکیں مگر شاید جن کے ہم منتظر رہے ان کو مل گئے اور ہم سفر شاید جان پہچان سے بھی کیا ہوگا پھر بھی اے دوست غور کر شاید اجنبیت کی دھند چھٹ جائے چمک اٹھے تری نظر شاید زندگی بھر لہو رلائے گی یاد یاران بے خبر شاید جو بھی بچھڑے وہ کب ملے ہیں فرازؔ پھر ...

مزید پڑھیے

جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے

جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے لوگ آرام سے سوئے ہوں گے بعض اوقات بہ مجبوریٔ دل ہم تو کیا آپ بھی روئے ہوں گے صبح تک دست صبا نے کیا کیا پھول کانٹوں میں پروئے ہوں گے وہ سفینے جنہیں طوفاں نہ ملے ناخداؤں نے ڈبوئے ہوں گے رات بھر ہنستے ہوئے تاروں نے ان کے عارض بھی بھگوئے ہوں گے کیا ...

مزید پڑھیے

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے

اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے محبتوں میں تو ملنا ہے یا اجڑ جانا مزاج عشق میں کب اعتدال رکھا ہے ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں نہ رہیں سو میں نے رشتۂ غم کو بحال رکھا ہے ہم ...

مزید پڑھیے

تیری باتیں ہی سنانے آئے

تیری باتیں ہی سنانے آئے دوست بھی دل ہی دکھانے آئے پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں تیرے آنے کے زمانے آئے ایسی کچھ چپ سی لگی ہے جیسے ہم تجھے حال سنانے آئے عشق تنہا ہے سر منزل غم کون یہ بوجھ اٹھانے آئے اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم کچھ تجھے یاد دلانے آئے دل دھڑکتا ہے سفر کے ...

مزید پڑھیے

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا قرعۂ فال مرے نام کا اکثر نکلا تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا میں نے اس جان بہاراں کو بہت یاد کیا جب کوئی پھول مری شاخ ہنر پر نکلا شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی ...

مزید پڑھیے

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ میرؔ دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ چاپ ...

مزید پڑھیے

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے نو گرفتار وفا سعئ رہائی ہے عبث ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے خوش ہو اے دل کہ محبت تو نبھا دی تو نے لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے ...

مزید پڑھیے

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں

تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں مجھ سے گریز پا ہے تو ہر راستہ بدل میں سنگ راہ ہوں تو سبھی راستوں میں ہوں تو آ چکا ہے سطح پہ کب سے خبر نہیں بے درد میں ابھی انہیں گہرائیوں میں ہوں اے یار خوش دیار تجھے کیا خبر کہ میں کب سے اداسیوں کے گھنے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5582 سے 6203