قومی زبان

کنیز

حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پر حضور کی تمام تر بلائیں میری جان پر حضور خیریت تو ہے حضور کیوں خموش ہیں حضور بولئے کہ وسوسے وبال ہوش ہیں حضور ہونٹ اس طرح سے کپکپا رہے ہیں کیوں حضور آپ ہر قدم پہ لڑ کھڑا رہے ہیں کیوں حضور آپ کی نظر میں نیند کا خمار ہے حضور شاید آج دشمنوں کو کچھ بخار ...

مزید پڑھیے

تو بہتر ہے یہی

یہ تری آنکھوں کی بے زاری یہ لہجے کی تھکن کتنے اندیشوں کی حامل ہیں یہ دل کی دھڑکنیں پیشتر اس کے کہ ہم پھر سے مخالف سمت کو بے خدا حافظ کہے چل دیں جھکا کر گردنیں آؤ اس دکھ کو پکاریں جس کی شدت نے ہمیں اس قدر اک دوسرے کے غم سے وابستہ کیا وہ جو تنہائی کا دکھ تھا تلخ محرومی کا دکھ جس نے ہم ...

مزید پڑھیے

بن باس

میرے شہر کے سارے رستے بند ہیں لوگو میں اس شہر کا نغمہ گر جو دو اک موسم غربت کے دکھ جھیل کے آیا تاکہ اپنے گھر کی دیواروں سے اپنی تھکی ہوئی اور ترسی ہوئی آنکھیں سہلاؤں اپنے دروازے کے اترتے روغن کو اپنے اشکوں سے صیقل کر لوں اپنے چمن کے جلے ہوئے پودوں اور گرد آلود درختوں کی مردہ شاخوں ...

مزید پڑھیے

کالی دیوار

کل واشنگٹن شہر کی ہم نے سیر بہت کی یار گونج رہی تھی سب دنیا میں جس کی جے جے کار ملکوں ملکوں ہم گھومے تھے بنجاروں کی مثل لیکن اس کی سج دھج سچ مچ دل داروں کی مثل روشنیوں کے رنگ بہیں یوں رستہ نظر نہ آئے من کی آنکھوں والا بھی یاں اندھا ہو ہو جائے اونچے بام چراغاں رستے روپ بھرے ...

مزید پڑھیے

مجسمہ

اے سیہ فام حسینہ ترا عریاں پیکر کتنی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں غلطیدہ ہے جانے کس دور الم ناک سے لے کر اب تک تو کڑے وقت کے زندانوں میں خوابیدہ ہے تیرے سب رنگ ہیولے کے یہ بے جان نقوش جیسے مربوط خیالات کے تانے بانے یہ تری سانولی رنگت یہ پریشان خطوط بارہا جیسے مٹایا ہو انہیں دنیا ...

مزید پڑھیے

اگر یہ سب کچھ نہیں

ملے تو ہم آج بھی ہیں لیکن نہ میرے دل میں وہ تشنگی تھی کہ تجھ سے مل کر کبھی نہ بچھڑوں نہ آج تجھ میں وہ زندگی تھی کہ جسم و جاں میں ابال آئے نہ خواب زاروں میں روشنی تھی نہ میری آنکھیں چراغ کی لو نہ تجھ میں ہی خود سپردگی تھی نہ بات کرنے کی کوئی خواہش نہ چپ ہی میں خوبصورتی ...

مزید پڑھیے

ہچ ہائیکر

میں کہ دو روز کا مہمان ترے شہر میں تھا اب چلا ہوں تو کوئی فیصلہ کر بھی نہ سکا زندگی کی یہ گھڑی ٹوٹتا پل ہو جیسے کہ ٹھہر بھی نہ سکوں اور گزر بھی نہ سکوں مہرباں ہیں تری آنکھیں مگر اے مونس جاں ان سے ہر زخم تمنا تو نہیں بھر سکتا ایسی بے نام مسافت ہو تو منزل کیسی کوئی بستی ہو بسیرا ہی ...

مزید پڑھیے

تضمین

غم تمہارا تھا زندگی گویا تم کو کھویا اسے نہیں کھویا فرط گریہ سے جی نہ ہلکا ہو بس یہی سوچ کر نہیں رویا اشک تو اشک ہیں شراب سے بھی میں نے یہ داغ دل نہیں دھویا میں وہ کشت نشاط کیوں کاٹوں جس کو میں نے کبھی نہیں بویا آبلہ آبلہ تھی جاں پھر بھی بار ہستی کو عمر بھر ڈھویا دیدہ و دل گواہ ...

مزید پڑھیے

تخلیق

درد کی آگ بجھا دو کہ ابھی وقت نہیں زخم دل جاگ سکے نشتر غم رقص کرے جو بھی سانسوں میں گھلا ہے اسے عریاں نہ کرو چپ بھی شعلہ ہے مگر کوئی نہ الزام دھرے ایسے الزام کہ خود اپنے تراشے ہوئے بت جذبۂ کاوش خالق کو نگوں سار کریں مو قلم حلقۂ ابرو کو بنا دے خنجر لفظ نوحوں میں رقم مدح رخ یار ...

مزید پڑھیے

بن باس کی ایک شام

یہ آخری ساعت شام کی ہے یہ شام جو ہے مہجوری کی یہ شام اپنوں سے دوری کی اس شام افق کے ہونٹوں پر جو لالی ہے زہریلی ہے اس شام نے میری آنکھوں سے صہبائے طرب سب پی لی ہے یہ شام غضب تنہائی کی پت جھڑ کی ہوا برفیلی ہے اس شام کی رنگت پیلی ہے اس شام فقط آواز تری کچھ ایسے سنائی دیتی ہے آواز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5580 سے 6203