قومی زبان

دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا

دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا کون ہوتا ہے کسی کا شب تنہائی میں غم فرقت ہی غم عشق کو بہلائے گا چاند کے پہلو میں دم سادھ کے روتی ہے کرن آج تاروں کا فسوں خاک نظر آئے گا راگ میں آگ دبی ہے غم محرومی کی راکھ ہوکر بھی یہ شعلہ ہمیں سلگائے گا وقت ...

مزید پڑھیے

میرا وطن

گوتم ہوئے کہ نانک کاکی ہوئے کہ چشتی لودی ہوئے کہ تغلق سید ہوئے کہ خلجی آ آ کے جس میں ان کی ملتی گئی ہے مٹی نا اتفاقیوں نے جس پر گرائی بجلی میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے اونچے پہاڑ جس کے تھے راستوں کو روکے دشمن کو جس کے دریا لاتے تھے پر ڈبو کے علم و ہنر کی دولت جس نے لٹائی سو ...

مزید پڑھیے

برسات اور شاعر

تھا درختوں کو ابھی عالم حیرت ایسا جیسے دلبر سے یکایک کوئی ہو جائے دو چار ڈالیاں ہلنے لگیں تیز ہوائیں جو چلیں پتے پتے میں نظر آنے لگی تازہ بہار سنسناہٹ ہوئی جھونکوں سے ہوا کے ایسی چھٹ گئی ہوں کہیں لاکھوں میں ہوائی یکبار رعد گرجا ارے وہ دیکھنا بجلی چمکی ہلکی ہلکی سی وہ پڑنے لگی ...

مزید پڑھیے

تنہائی

مجھ سا تنہا نہیں دنیا میں خدایا کوئی میں نہ اپنا ہوں کسی کا بھی نہ میرا کوئی کیا ملا مجھ کو چہل سالہ رفاقت کر کے اب کسی پر نہ کرے آہ بھروسا کوئی تابش ہجر نے دل کی یہ بنا دی صورت جیسے ہو دھوپ میں تپتا ہوا صحرا کوئی آتش شوق کی اٹھی ہیں کچھ ایسی لہریں جس طرح آگ کا بہتا ہوا دریا کوئی ایک ...

مزید پڑھیے

جو تیز دوڑتے تھے بہت جلد تھک گئے

جو تیز دوڑتے تھے بہت جلد تھک گئے ہم دھیرے دھیرے چلتے ہوئے دور تک گئے اترن پہن کے شاہ کی خوش ہیں مصاحبین سورج سے بھیک مانگ کے ذرے چمک گئے یاروں نے زخم دل کا مرے یوں کیا علاج آئے تھے خون پونچھنے رکھ کر نمک گئے آنکھوں کو انتظار میں پردے پہ ٹانک کر چوکھٹ سے پوسٹر کی طرح ہم چپک ...

مزید پڑھیے

وہ بجھ گیا تو اندھیروں کو بھی ملال رہا

وہ بجھ گیا تو اندھیروں کو بھی ملال رہا وہ اک چراغ جو جلنے میں بھی بے مثال رہا کبھی بھلا نہ سکا دل شکستگی اپنی جڑا تو جڑ کے بھی اس آئنے میں بال رہا مری حیات نے حاتم بنا دیا مجھ کو ہر اک سوال کے بعد اک نیا سوال رہا ہمیشہ میں نے بھی ناکامیوں سے کام لیا تمام عمر مرا میرؔ جیسا حال ...

مزید پڑھیے

کسی کی زیست کا بس ایک باب سناٹا

کسی کی زیست کا بس ایک باب سناٹا کسی کے واسطے پورا نصاب سناٹا ہے اس کو لفظ سے مطلب مجھے معانی سے ہے اس کا شور مرا انتخاب سناٹا درون خانہ کی ویرانیاں کچھ ایسی تھیں برون خانہ ہوا آب آب سناٹا مجھے پتہ ہے کہانی کا اختتام ہے کیا طویل بات کا لب لباب سناٹا مری خموشی پہ انگلی اٹھاتا ...

مزید پڑھیے

حسن بازار تو ہے گرمئ بازار نہیں

حسن بازار تو ہے گرمئ بازار نہیں بیچنے والے ہیں سب کوئی خریدار نہیں آؤ بتلائیں کہ وعدوں کی حقیقت کیا ہے پیڑ اونچے ہیں سبھی کوئی ثمر دار نہیں دل کی افتاد مزاجی سے پریشاں ہوں میں تھی طلب جس کی اب اس کا ہی طلب گار نہیں اب جسے دیکھو وہی گھوم رہا ہے باندھے دستیاب اب کسی دوکان پہ ...

مزید پڑھیے

ڈرا رہا ہے مجھے ایک ڈر اندھیرے میں

ڈرا رہا ہے مجھے ایک ڈر اندھیرے میں بچھڑ نہ جائے کہیں ہم سفر اندھیرے میں امڈتی کالی گھٹاؤں کو روکنا ہوگا نہ ڈوب جائے کہیں دوپہر اندھیرے میں کرو نہ میرے لئے تم کوئی دیا روشن مجھے اب آنے لگا ہے نظر اندھیرے میں کئی چراغوں نے اودھم مچائی تھی اک شب تبھی سے ڈوب گیا گھر کا گھر اندھیرے ...

مزید پڑھیے

دل مجھے سمجھاتا ہے تو دل کو سمجھاتا ہوں میں

دل مجھے سمجھاتا ہے تو دل کو سمجھاتا ہوں میں جانے کیسے عقل کی باتوں میں آ جاتا ہوں میں دن مجھے ہر دن بنا لیتا ہے اپنا یرغمال رات جب آتی ہے تو خود کو چھڑا لاتا ہوں میں کوئی جھوٹا وعدہ بھی کرتا نہیں ہے وہ کبھی خود امیدیں باندھ لیتا ہوں بہل جاتا ہوں میں زندہ رہنے کا مجھے فن آج تک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5550 سے 6203