قومی زبان

کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہئے ہے

کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہئے ہے شاہزادی مجھے دربار نہیں چاہئے ہے آخری اشک سے اس سوگ کی تکمیل ہوئی اب مجھے کوئی عزا دار نہیں چاہئے ہے اس تکلف سے زیادہ کا طلب گار ہوں میں صرف یہ سایۂ دیوار نہیں چاہئے ہے اب مقابل مرے اپنے ہیں سو اے رب جلیل حوصلہ چاہئے تلوار نہیں چاہئے ...

مزید پڑھیے

چراغ طاق طلسمات میں دکھائی دیا

چراغ طاق طلسمات میں دکھائی دیا پھر اس کے بعد میرے ہاتھ میں دکھائی دیا میں خوش ہوں کمرے میں پہلی دراڑ آنے سے چلو میں اپنے مضافات میں دکھائی دیا کئی چراغ بنا لوں گا توڑ کر سورج اگر کبھی یہ مجھے رات میں دکھائی دیا ہزار آنکھوں نے گھیرے میں لے لیا مجھ کو میں ایک شخص کے خدشات میں ...

مزید پڑھیے

یہ داستان غم دل کہاں کہی جائے

یہ داستان غم دل کہاں کہی جائے یہاں تو کھل کے کوئی بات بھی نہ کی جائے تمہارے ہاتھ سہی فیصلہ مگر پھر بھی ذرا اسیر کی روداد تو سنی جائے یہ رات دن کا تڑپنا بھی کیا قیامت ہے جو تم نہیں تو تمہارا خیال بھی جائے اب اس سے بڑھ کے بھلا اور کیا ستم ہوگا زبان کھل نہ سکے آنکھ دیکھتی جائے یہ ...

مزید پڑھیے

تنہائیوں کے دشت میں اکثر ملا مجھے

تنہائیوں کے دشت میں اکثر ملا مجھے وہ شخص جس نے کر دیا مجھ سے جدا مجھے وارفتگی مری ہے کہ ہے انتہائے شوق اس کی گلی کو لے گیا ہر راستہ مجھے جیسے ہو کوئی چہرہ نیا اس کے روبرو یوں دیکھتا رہا مرا ہر آشنا مجھے حرف غلط سمجھ کے جو مجھ کو مٹا گیا اس جیسا اس کے بعد نہ کوئی لگا مجھے پہلے ہی ...

مزید پڑھیے

دل کے ویران راستے بھی دیکھ

دل کے ویران راستے بھی دیکھ آنکھ کی مار سے پرے بھی دیکھ چار سو گونجتے ہیں سناٹے کبھی سنسان مقبرے بھی دیکھ کانپتی ہیں لویں چراغوں کی روشنی کو قریب سے بھی دیکھ سوزش فرقت مسلسل سے آنچ دیتے ہیں قہقہے بھی دیکھ بند ہونٹوں کی نغمگی بھی سن سوتی آنکھوں کے رت جگے بھی دیکھ دیکھنا ہو ...

مزید پڑھیے

کبھی تری کبھی اپنی حیات کا غم ہے

کبھی تری کبھی اپنی حیات کا غم ہے ہر ایک رنگ میں ناکامیوں کا ماتم ہے خیال تھا ترے پہلو میں کچھ سکوں ہوگا مگر یہاں بھی وہی اضطراب پیہم ہے مرے مذاق الم آشنا کا کیا ہوگا تری نگاہ میں شعلے ہیں اب نہ شبنم ہے سحر سے رشتۂ امید باندھنے والے چراغ زیست کی لو شام ہی سے مدھم ہے یہ کس مقام ...

مزید پڑھیے

گردش جام نہیں گردش ایام تو ہے

گردش جام نہیں گردش ایام تو ہے سعیٔ ناکام سہی پھر بھی کوئی کام تو ہے دل کی بیتابی کا آخر کہیں انجام تو ہے میری قسمت میں نہیں دہر میں آرام تو ہے مائل لطف و کرم حسن دل آرام تو ہے میری خاطر نہ سہی کوئی سر بام تو ہے تو نہیں میرا مسیحا مرا قاتل ہی سہی مجھ سے وابستہ کسی طور ترا نام تو ...

مزید پڑھیے

قد و گیسو لب و رخسار کے افسانے چلے

قد و گیسو لب و رخسار کے افسانے چلے آج محفل میں ترے نام پہ پیمانے چلے ابھی تو نے دل شوریدہ کو دیکھا کیا ہے موج میں آئے تو طوفانوں سے ٹکرانے چلے دیکھیں اب رہتا ہے کس کس کا گریباں ثابت چاک دل لے کے تری بزم سے دیوانے چلے پھر کسی جشن چراغاں کا گماں ہے شاید آج ہر سمت سے پر سوختہ پروانے ...

مزید پڑھیے

جنہیں راس آ گئے ہیں یہ سحر نما اندھیرے

جنہیں راس آ گئے ہیں یہ سحر نما اندھیرے یہ تلاش صبح نو میں کبھی ہم سفر تھے میرے تھیں جو قتل گاہیں ان کی ہیں وہی قیام گاہیں تھے جو رہزنوں کے مسکن ہیں وہ رہبروں کے ڈیرے میں جہان بے دلی میں کہاں لے کے جاؤں دل کو مرے دل کی گھات میں ہیں یہاں چار سو لٹیرے اے شبوں کے پاسبانوں میں یہ تم ...

مزید پڑھیے

قیام دیر و طواف حرم نہیں کرتے

قیام دیر و طواف حرم نہیں کرتے زمانہ ساز تو کرتے ہیں ہم نہیں کرتے تمہاری زلف کو سلجھائیں گے وہ دیوانے جو اپنے چاک گریباں کا غم نہیں کرتے اتر چکا ہے رگ و پے میں زہر غم پھر بھی بہ پاس‌ عہد وفا چشم نم نہیں کرتے یہ اپنا دل ہے کہ اس حال میں بھی زندہ ہیں ستم کچھ اہل ستم ہم پہ کم نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5549 سے 6203