کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہئے ہے
کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہئے ہے شاہزادی مجھے دربار نہیں چاہئے ہے آخری اشک سے اس سوگ کی تکمیل ہوئی اب مجھے کوئی عزا دار نہیں چاہئے ہے اس تکلف سے زیادہ کا طلب گار ہوں میں صرف یہ سایۂ دیوار نہیں چاہئے ہے اب مقابل مرے اپنے ہیں سو اے رب جلیل حوصلہ چاہئے تلوار نہیں چاہئے ...