قومی زبان

اس کی آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے

اس کی آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے وقت کی نبض بھی تھمی سی ہے ہر طرف جوں کی توں ہے ہر اک شے کیوں طبیعت میں برہمی سی ہے کوئی اب تک سمجھ نہیں پایا زندگی گونگے آدمی سی ہے میری جاں تیری سرخیٔ لب میں خون دل کی مرے کمی سی ہے اس سے حاصل نہیں فرار کبھی درد اک چیز لازمی سی ہے وہ فسردہ نظر ...

مزید پڑھیے

جانے کیسا یہ نور ہے مجھ میں

جانے کیسا یہ نور ہے مجھ میں چاند کوئی ضرور ہے مجھ میں کوئی پڑھتا نہیں کبھی اس کو وہ جو بین السطور ہے مجھ میں جانے کس میں ہے عاجزی میری جانے کس کا غرور ہے مجھ میں کہیں باہر نظر نہیں آتا میرا دشمن ضرور ہے مجھ میں کرچیاں چبھ رہی ہیں سینے میں آئنہ چور چور ہے مجھ میں مدتوں تک سفر ...

مزید پڑھیے

آہ بھرتا ہوں تو بھرنے بھی نہیں دیتا ہے

آہ بھرتا ہوں تو بھرنے بھی نہیں دیتا ہے اور وہ خاموشی سے مرنے بھی نہیں دیتا ہے ناخدا کشتی کو ساحل سے لگاتا بھی نہیں بیچ دریا میں اترنے بھی نہیں دیتا ہے دوسرا زخم لگا دیتا ہے دل پر میرے پہلے کو ٹھیک سے بھرنے بھی نہیں دیتا ہے میرے آنسوؤں سے وہ سنگ پگھلتا بھی نہیں سر پٹک کر مجھے ...

مزید پڑھیے

امیر شہر کی چوکھٹ پہ جا کے لوٹ آیا

امیر شہر کی چوکھٹ پہ جا کے لوٹ آیا غریب وقت انگوٹھا دکھا کے لوٹ آیا لگا رہا تھا میں بڑھ چڑھ کے بولیاں لیکن خریدا کچھ نہیں قیمت بڑھا کے لوٹ آیا کسر رہی سہی کر دیں گی آندھیاں پوری میں اس درخت کو جڑ سے ہلا کے لوٹ آیا میں چاند چھونے کی خواہش میں گھر سے نکلا تھا اور اپنی پلکوں پہ ...

مزید پڑھیے

وہ اک حسیں کبھی تنہا نہیں نکلتا ہے

وہ اک حسیں کبھی تنہا نہیں نکلتا ہے کہ جیسے چاند اکیلا نہیں نکلتا ہے ہر آدمی سے وفا کی امید مت رکھو ہر اک زمین سے سونا نہیں نکلتا ہے گھروں میں چاروں طرف قمقمے تو روشن ہیں مگر دلوں سے اندھیرا نہیں نکلتا ہے کچھ امتحان فقط امتحان ہوتے ہیں ہر امتحاں کا نتیجہ نہیں نکلتا ہے کبھی ...

مزید پڑھیے

کوئی حسرت بھی نہیں کوئی تمنا بھی نہیں

کوئی حسرت بھی نہیں کوئی تمنا بھی نہیں دل وہ آنسو جو کسی آنکھ سے چھلکا بھی نہیں روٹھ کر بیٹھ گئی ہمت دشوار پسند راہ میں اب کوئی جلتا ہوا صحرا بھی نہیں آگے کچھ لوگ ہمیں دیکھ کے ہنس دیتے تھے اب یہ عالم ہے کوئی دیکھنے والا بھی نہیں درد وہ آگ کہ بجھتی نہیں جلتی بھی نہیں یاد وہ زخم کہ ...

مزید پڑھیے

دن کو رہتے جھیل پر دریا کنارے رات کو

دن کو رہتے جھیل پر دریا کنارے رات کو یاد رکھنا چاند تارو اس ہماری بات کو اب کہاں وہ محفلیں ہیں اب کہاں وہ ہم نشیں اب کہاں سے لائیں ان گزرے ہوئے لمحات کو پڑ چکی ہیں اتنی گرہیں کچھ سمجھ آتا نہیں کیسے سلجھائیں بھلا الجھے ہوئے حالات کو کتنی طوفانی تھیں راتیں جن میں دو دیوانے ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ شمار کون کرے

لمحہ لمحہ شمار کون کرے عمر بھر انتظار کون کرے کوئی وعدہ بھی تو وفا نہ ہوا بے وفاؤں سے پیار کون کرے شب تیرہ و تار کا دامن دیکھیے تار تار کون کرے دوستی ایک لفظ بے معنی کس پہ اب انحصار کون کرے اے غم دوست تیرے ہوتے ہوئے غم لیل و نہار کون کرے تیرے اس درد لا دوا کا علاج دل زار و نزار ...

مزید پڑھیے

میں دل زدہ ہوں اگر دل فگار وہ بھی ہیں

میں دل زدہ ہوں اگر دل فگار وہ بھی ہیں کہ درد عشق کے اب دعویدار وہ بھی ہیں ہوا ہے جن کے کرم سے دل و نظر کا زیاں بہ فیض وقت مرے غم گسار وہ بھی ہیں شہید جذبوں کی فہرست کیا مرتب ہو شمار میں جو نہیں بے شمار وہ بھی ہیں دل تباہ! یہ آثار ہیں قیامت کے رہین گردش لیل و نہار وہ بھی ہیں حریم ...

مزید پڑھیے

دل پہ جب درد کی افتاد پڑی ہوتی ہے

دل پہ جب درد کی افتاد پڑی ہوتی ہے دوستو وہ تو قیامت کی گھڑی ہوتی ہے جس طرف جائیں جہاں جائیں بھری دنیا میں راستہ روکے تری یاد کھڑی ہوتی ہے جس نے مر مر کے گزاری ہو یہ اس سے پوچھو ہجر کی رات بھلا کتنی کڑی ہوتی ہے ہنستے ہونٹوں سے بھی جھڑتے ہیں فسانے غم کے خشک آنکھوں میں بھی ساون کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5551 سے 6203