قومی زبان

میں کھو گیا ہوں کہاں آشیاں بناتے ہوئے

میں کھو گیا ہوں کہاں آشیاں بناتے ہوئے زمین بھول گیا آسماں بناتے ہوئے ستارہ وار چمکتا ہر ایک ذرہ مرا بکھر نہ جائے کہیں کہکشاں بناتے ہوئے تمہارے نام پہ میں جل بجھا تو علم ہوا کہ سود بنتا ہے کیسے زیاں بناتے ہوئے محاذ پر ہی رہا ہوں لہو کے بجھنے تک قلم ہوئے مرے بازو کماں بناتے ...

مزید پڑھیے

صدیوں کے اندھیرے میں اتارا کرے کوئی

صدیوں کے اندھیرے میں اتارا کرے کوئی سورج کو کسی روز ہمارا کرے کوئی اک خوف سا بس گھومتا رہتا ہے سروں میں دنیا کا مرے گھر سے نظارہ کرے کوئی رنگوں کا تصور بھی اڑا آنکھ سے اب تو اس شہر میں اب کیسے گزارا کرے کوئی یوں درد نے امید کے لڑ سے مجھے باندھا دریاؤں کو جس طرح کنارا کرے ...

مزید پڑھیے

کون سی دیواروں سے میں ٹکرایا نہ

کون سی دیواروں سے میں ٹکرایا نہ وقت سے آگے لیکن میں جا پایا نہ سارے عقیدے حبس کے معبد ہیں جن میں کبھی ہوا کا جھونکا تک بھی آیا نہ اس کی یاد میں ساری عمر گنوا بیٹھا میرا کبھی خیال بھی جس کو آیا نہ اس نے جب سناٹے کی دیوار چنی تم نے بھی تو اس دم شور مچایا نہ جانے اس کے لہجے میں کیا ...

مزید پڑھیے

چارہ گروں نے باندھ دیا مجھ کو بخت سے

چارہ گروں نے باندھ دیا مجھ کو بخت سے چھاؤں ملی نہ مجھ کو دعا کے درخت سے بیٹھا تھا میں حصار فلک میں زمین پر دشمن نے فتح کھینچ لی میری شکست سے میں بھی تو تھا فریفتہ خود اپنے آپ پر شکوہ کروں میں کیا دل نرگس پرست سے گریہ کی سلطنت مجھے دے گی شکست کیا چھینی ہے میں نے زندگی پانی کے تخت ...

مزید پڑھیے

وقت کے ہر اک نقش کا معنی اتنا بدلا بدلا ہوگا

وقت کے ہر اک نقش کا معنی اتنا بدلا بدلا ہوگا میرے وہم و گمان میں کب تھا عشق کا منظر ایسا ہوگا آج مجھے اپنی آنکھوں سے اس کے قرب کی خوشبو آئی میری نظر سے اس نے شاید اپنے آپ کو دیکھا ہوگا لمس کے اس کورے تالاب میں چاند کا پہلا عکس تمہی ہو کیسے نور جہانی سر میں کس کس سے وہ کہتا ...

مزید پڑھیے

میں کیا ہوں مجھے تم نے جو آزار پہ کھینچا

میں کیا ہوں مجھے تم نے جو آزار پہ کھینچا دنیا نے مسیحاؤں کو بھی دار پہ کھینچا زندوں کا تو مسکن بھی یہاں قبر نما ہے مردوں کو مگر درجۂ اوتار پہ کھینچا وہ جاتا رہا اور میں کچھ بول نہ پایا چڑیوں نے مگر شور سا دیوار پہ کھینچا کچھ بھی نہ بچا شہر میں جز رونے کی رت کے ہر شعلۂ آواز کو ...

مزید پڑھیے

خود ہی سنگ و خشت خود ہی سر جنون سر ہوں میں

خود ہی سنگ و خشت خود ہی سر جنون سر ہوں میں خود ہی میں نخچیر دانہ خود ہی بال و پر ہوں میں منتظر ہوں ایک قطرے کا جو دے اذن سفر جو تہ صحرا ہے محو خواب وہ ساگر ہوں میں چاند کو آباد کر لیکن میری فکر و نظر دیکھ مدت سے ہے جو ویراں پڑا وہ گھر ہوں میں اتنا سادہ دل کہ درد دل کے حق میں جان ...

مزید پڑھیے

بجھتی آنکھوں سے مری خواب کہاں جاتا ہے

بجھتی آنکھوں سے مری خواب کہاں جاتا ہے اب مجھے لے کے یہ سیلاب کہاں جاتا ہے روح تو کب سے پریشاں ہے نمو کی خاطر مشت بھر خطۂ شاداب کہاں جاتا ہے اپنی ہستی میں تو طوفان کھنچے آتے ہیں ہے جو پاؤں میں وہ گرداب کہاں جاتا ہے اس کی تقدیر میں لکھا ہے نمی میں رہنا چھوڑ کر آب کو سرخاب کہاں ...

مزید پڑھیے

تمام جسم اگر لا ابال ہے تو رہے

تمام جسم اگر لا ابال ہے تو رہے وہی جو دشت میں تنہا غزال ہے تو رہے فقیر بھول چکا ہے نصاب دنیا کا ترے نصیب میں مال و منال ہے تو رہے عزیز رکھتی ہے مجھ کو وطن کی خاک بہت ترے خلوص میں رنج و ملال ہے تو رہے کیا ہے جنگ کو رخصت مگر دعا دے کر عدو کے پاس اگر اس کی ڈھال ہے تو رہے تلاش کرنے کو ...

مزید پڑھیے

خود پر نہیں طیور کی اب دسترس کہ بس

خود پر نہیں طیور کی اب دسترس کہ بس مستی میں جا رہے ہیں یوں سوئے قفس کہ بس خواہش کہاں عروج سے اتری ہے زیر خاک مضبوط دور سے اسے اس طرح کس کہ بس مہکا ہوا وجود ہے روشن ہے میری خاک ایسے رواں ہے پھر تیری بوئے نفس کہ بس ہر دم ترے خیال نے نیلا کیا بدن سب زہر کھینچ لے مرا اس طرح ڈس کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5545 سے 6203