قومی زبان

ذرا سکون بھی صحرا کے پیار نے نہ دیا

ذرا سکون بھی صحرا کے پیار نے نہ دیا مسافروں کو ہوا نے پکارنے نہ دیا تجھے بھی دے نہ سکے چین وہ گلاب کے پھول مجھے بھی اذن تبسم بہار نے نہ دیا نہ جانے کتنے مراحل کے بعد پایا تھا وہ ایک لمحہ جو تو نے گزارنے نہ دیا کہاں گئے وہ جو آباد تھے خرابے میں پتا کسی کا دل بے قرار نے نہ دیا میں ...

مزید پڑھیے

جلتی بجھتی سی رہ گزر جیسے

جلتی بجھتی سی رہ گزر جیسے زندگی دور کا سفر جیسے اس قدر پرخلوص لہجہ ہے اس سے ملنا ہے عمر بھر جیسے اس محلہ میں اک جواں لڑکی بیچ اخبار میں خبر جیسے ایک مانوس سی صدا گونجی دور یادوں کا اک نگر جیسے

مزید پڑھیے

ملا جو دھوپ کا صحرا بدن شجر نہ بنا

ملا جو دھوپ کا صحرا بدن شجر نہ بنا میں وہ ہوں خود جو کبھی اپنا ہم سفر نہ بنا نگر نگر میں نئی بستیاں بسائی گئیں ہزار چاہا مگر پھر بھی اپنا گھر نہ بنا یہ بات بات ہے دل کی تو پھر جھجک کیسی یہ نقش نقش وفا ہے تو سوچ کر نہ بنا چمکتے دن کے اجالوں سے آشنا ہو کر اندھیری رات میں سائے کو ہم ...

مزید پڑھیے

احساس کی منزل سے گزر جائے گا آخر

احساس کی منزل سے گزر جائے گا آخر مجھ میں ہے جو انسان وہ مر جائے گا آخر اک دن تو تری راہ میں پتھرائیں گی آنکھیں یہ جسم بھی ریزوں میں بکھر جائے گا آخر اے دوست یہاں عرض ہنر جاں کا زیاں ہے تو گہرے سمندر میں اتر جائے گا آخر میں رنگ سحر تیرے لیے ڈھونڈ کے لاؤں تو شام کے میلے میں کدھر ...

مزید پڑھیے

ادھر دیکھتے ہیں ادھر دیکھتے ہیں

ادھر دیکھتے ہیں ادھر دیکھتے ہیں ہمیشہ تری رہ گزر دیکھتے ہیں سفر ہی نہیں ختم ہوتا ہمارا مصیبت میں ہم اپنا گھر دیکھتے ہیں اگرچہ ہمارا نتیجہ نہ نکلا مگر فیل ہونے کا ڈر دیکھتے ہیں برستا رہا رات بھر گھر میں پانی خدا تیری رحمت کا در دیکھتے ہیں ہنسی مجھ کو آتی ہے تیری ہنسی پر اخوت ...

مزید پڑھیے

رات گزری ہے در بدر ہو کر

رات گزری ہے در بدر ہو کر زندگی تجھ سے بے خبر ہو کر معاف کرنا مرے گناہوں کو خلد جانا ہے بے خطر ہو کر شرط اول ہے خانۂ دل کا پاؤں رکھنا ہے معتبر ہو کر تجھ سے ملنے کی ایک حسرت ہے کب گزرنا ہے میرے گھر ہو کر ان سے چلنے کی ضد کرو احمدؔ نقش چوموں گا رہ گزر ہو کر

مزید پڑھیے

اس جیسا یہاں کوئی بھی فن کار نہیں ہے

اس جیسا یہاں کوئی بھی فن کار نہیں ہے قاتل ہے مگر ہاتھ میں تلوار نہیں ہے اٹھوں گا مگر صبح تو ہونے دے مؤذن سونے کے لئے نیند بھی درکار نہیں ہے یوں ہے کہ فقط دیکھ کے ہوتی ہے تسلی معمولی کوئی نقش یا دیوار نہیں ہے درد دل مجروح کوئی سمجھے تو کیسے اس شہر میں مجھ سا کوئی بیمار نہیں ...

مزید پڑھیے

گہرائیوں سے مجھ کو کسی نے نکال کے

گہرائیوں سے مجھ کو کسی نے نکال کے پھینکا ہے آسمان کی جانب اچھال کے میں نے زمیں کو ناپ لیا آسمان تک نظروں میں فاصلے ہیں عروج و زوال کے چہرے ہر اک سے پوچھ رہے ہیں کوئی جواب شعلوں پہ کچھ نشان لگے ہیں سوال کے لوگ میں اب وہ چرب زبانی نہیں رہی یا ہجر میں اداس ہیں قصے وصال کے ہر شخص سے ...

مزید پڑھیے

درد ٹھہرے تو ذرا دل سے کوئی بات کریں

درد ٹھہرے تو ذرا دل سے کوئی بات کریں منتظر ہیں کہ ہم اپنے سے ملاقات کریں دن تو آوازوں کے صحرا میں گزارا لیکن اب ہمیں فکر یہ ہے ختم کہاں رات کریں میری تصویر ادھوری ہے ابھی کیا معلوم کیا مری شکل بگڑتے ہوئے حالات کریں اور اک تازہ تعارف کا بہانہ ڈھونڈیں ان سے کچھ ان کے ہی بارے میں ...

مزید پڑھیے

خود کو چھونے سے ڈرا کرتے ہیں

خود کو چھونے سے ڈرا کرتے ہیں ہم جو نیندوں میں چلا کرتے ہیں اپنی ہی ذات کے صحرا میں آج لوگ چپ چاپ جلا کرتے ہیں خون شریانوں میں لہراتا ہے خواب آنکھوں میں ہنسا کرتے ہیں ہم جہاں بستے تھے اس بستی میں اب فقط سائے ملا کرتے ہیں لڑکیاں ہنستی گزر جاتی ہیں ہم سمندر کو تکا کرتے ہیں آتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5530 سے 6203