قومی زبان

نظارہ جو ہوتا ہے لب بام تمہارا

نظارہ جو ہوتا ہے لب بام تمہارا دنیا میں اچھلتا ہے بہت نام تمہارا درباں ہے نہ ہے غیر بد انجام تمہارا کام آئے گا آخر یہی ناکام تمہارا دشنام سنو دے کے دل اے حسن پرستوں یہ کام تمہارا ہے وہ انعام تمہارا آغاز محبت ہے ہو خوش حضرت دل کیا اچھا نظر آتا نہیں انجام تمہارا احسنؔ کی طبیعت ...

مزید پڑھیے

سو حشر میں لیے دل حسرت مآب میں

سو حشر میں لیے دل حسرت مآب میں آباد ہو رہا ہوں جہان خراب میں ہم اپنی بے قراری دل سے ہیں بے قرار آمیزش سکوں ہے اس اضطراب میں اب سیر گل کہاں، دل رنگیں نظر کہاں اک خواب تھا جو دیکھ لیا تھا شباب میں بڑھ بڑھ کے چھپ رہے ہیں پس پردہ بار بار کیا کیا تکلفات ہیں ترک حجاب میں احسنؔ دل ان ...

مزید پڑھیے

کیا ضرورت بے ضرورت دیکھنا

کیا ضرورت بے ضرورت دیکھنا تم نہ آئینے کی صورت دیکھنا پھر گئیں بیمار غم کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کی مروت دیکھنا ہم کہاں اے دل کہاں دیدار یار ہو گیا تیری بدولت دیکھنا ہے وہ جب دل میں تو کیسی جستجو ڈھونڈنے والوں کی غفلت دیکھنا سامنے تعریف پیچھے گالیاں ان کی منہ دیکھی محبت ...

مزید پڑھیے

ادا میں بانکپن انداز میں اک آن پیدا کر

ادا میں بانکپن انداز میں اک آن پیدا کر تجھے معشوق بننا ہے تو پوری شان پیدا کر کہاں کا وصل کیسی آرزو اے دل وہ کہتے ہیں نہ میں حسرت کروں پوری نہ تو ارمان پیدا کر ہمارا انتخاب اچھا نہیں اے دل تو پھر تو ہی خیال یار سے بہتر کوئی مہمان پیدا کر مجھے ہے رشک اس کو بھی رقیب اپنا سمجھتا ...

مزید پڑھیے

ساغر کیوں خالی ہے مرا اے ساقی ترے میخانے میں

ساغر کیوں خالی ہے مرا اے ساقی ترے میخانے میں پھر ڈال دے الفت کی نظریں اک بار مرے پیمانے میں وہ عشق نہیں ہے بو الہوسی جو وصل کی چاہت کرتا ہے باقی ہے فراست اب تک بھی اتنی تو ترے دیوانے میں دنیا کی عنایت ہے اتنی ہر گام بچھاتی ہے کانٹے ہم رنگ حنا کیسے بھرتے اس الفت کے افسانے ...

مزید پڑھیے

سارا عالم دھواں دھواں کیوں ہے

سارا عالم دھواں دھواں کیوں ہے ہر طرف آہ اور فغاں کیوں ہے بند ہے آج کیا در رحمت ہر دعا میری رائیگاں کیوں ہے پی لیا کیا ستم نے آب حیات خوف سے بند ہر زباں کیوں ہے ساتھ چلتی ہے میرے ہر جانب اس قدر برق مہرباں کیوں ہے آ کے ساحل پہ کون ڈوب گیا موج کی ہر ادا جواں کیوں ہے جسم ہے روح مر ...

مزید پڑھیے

جب تک غبار راہ مرا ہم سفر رہا

جب تک غبار راہ مرا ہم سفر رہا رستہ تو تھا طویل مگر مختصر رہا ہر چند ہو گیا ہے ثریا سے بھی بلند لیکن شجر جفا کا سدا بے ثمر رہا اہل جنوں نے توڑ دیئے وہ حصار بھی ہوش و خرد کا تیشہ جہاں بے ضرر رہا یہ مے کدہ ہے جائے عبادت ہے رند کی دنیا کا ہر فریب یہاں بے اثر رہا فصل خزاں میں اس کا ...

مزید پڑھیے

دل کی خواہش بڑھتے بڑھتے طوفاں ہوتی جاتی ہے

دل کی خواہش بڑھتے بڑھتے طوفاں ہوتی جاتی ہے زر کی چاہت اب لوگوں کا ایماں ہوتی جاتی ہے پیار محبت ہمدردی کے رشتے تھے انسانوں میں دل والوں کو اب یہ دنیا زنداں ہوتی جاتی ہے مرگھٹ کا سا سناٹا ہے گھر کوچے بازاروں میں دل کی بستی رفتہ رفتہ ویراں ہوتی جاتی ہے انسانوں کے خوں کے پیاسے اور ...

مزید پڑھیے

لے کے پھر زخموں کی سوغات بہارو آؤ

لے کے پھر زخموں کی سوغات بہارو آؤ چشم پر نم کے مقابل تو پھوہارو آؤ چند تنکوں کا جلانا تو بڑی بات نہیں عزم کو میرے جلاؤ تو شرارو آؤ غم کا سیلاب غضب دل کی شکستہ کشتی موج کے ساتھ ہی یادوں کے کنارو آؤ تکتے رہتے ہو کسے دور سے حیرانی سے دل کے صحرا میں کبھی چاند ستارو آؤ آمد یار ہو ہر ...

مزید پڑھیے

دنیا سبھی باطل کی طلب گار لگے ہے

دنیا سبھی باطل کی طلب گار لگے ہے جس روح کو دیکھو وہی بیمار لگے ہے جب بھوک سے مر جاتا ہے دوراہے پہ کوئی بستی کا ہر اک شخص گنہ گار لگے ہے شاید نئی تہذیب کی معراج یہی ہے حق گو ہی زمانے میں خطا کار لگے ہے وہ تیری وفا کی ہو کہ دنیا کی جفا کی مت چھیڑ کوئی بات کہ تلوار لگے ہے کیا ظرف ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5529 سے 6203