قومی زبان

حادثہ کون سا ہوا پہلے

حادثہ کون سا ہوا پہلے رات آئی کہ دن ڈھلا پہلے اب میں پانی تلاش کرتا ہوں بھوک تھی میرا مسئلہ پہلے خواب تھے میری دسترس میں دو میں نے دیکھا تھا دوسرا پہلے اب تو وہ بھی نظر نہیں آتا دکھ رہا تھا جو راستہ پہلے اب تو یہ بھی قدیم لگتا ہے کس قدر شہر تھا نیا پہلے اس سے پہلے کہ ٹوٹتی ...

مزید پڑھیے

علاج حسرت دلگیر کر رہا ہوں میں

علاج حسرت دلگیر کر رہا ہوں میں مقدرات کی تعمیر کر رہا ہوں میں تصورات کی کرچیں سمیٹ کر ایک اک بریدہ خواب کی تفسیر کر رہا ہوں میں کہ گوندھ کر مہ تاباں کی ضو فشاں کرنیں علاج ظلمت بے پیر کر رہا ہوں میں جگا کے فہم کی لو ذہن کے دریچوں میں نئے نظام کو تحریر کر رہا ہوں میں یہ عزم ہے کہ ...

مزید پڑھیے

جو جو شعور ذہن پہ آتا چلا گیا

جو جو شعور ذہن پہ آتا چلا گیا دل کلفتوں کے داغ مٹاتا چلا گیا لا کر بہار نو کے گل ندرت خیال صحرا کو میں چمن سا بناتا چلا گیا اللہ کا یہ فضل ہے مجھ پہ کہ بحر علم کوزے سے میرے دل میں سماتا چلا گیا الفاظ کے گہر سے غزل کی زمیں کو میں جیسے فلک نژاد بنتا چلا گیا تار نفس پہ چھیڑ کے اک ...

مزید پڑھیے

گر گئی چلمن اگر توبہ ضرور

گر گئی چلمن اگر توبہ ضرور آپ کی قاتل نظر توبہ ضرور دیکھ کر ایسی تجلی نور کی کیسا شرمایا قمر توبہ ضرور اتنی وسعت میں سما سکتا نہیں آپ کا دل میرا گھر توبہ ضرور بس خلا ہی میں قلعہ تخلیق کا ریت کے دلدل میں گھر توبہ ضرور آپ کہ الفت میں صحرا میں پھروں خواب بھی دیکھیں اگر توبہ ...

مزید پڑھیے

سنگ در بن کر بھی کیا حسرت مرے دل میں نہیں

سنگ در بن کر بھی کیا حسرت مرے دل میں نہیں تیرے قدموں میں ہوں لیکن تیری محفل میں نہیں راہ الفت کا نشاں یہ ہے کہ وہ ہے بے نشاں جادہ کیسا نقش پا تک کوئی منزل میں نہیں کھو چکے رو رو کے گھر باہر کی ساری کائنات اشک کیسے آنکھ میں اب خون بھی دل میں نہیں بزم آرائی سے پہلے دیکھ او نادان ...

مزید پڑھیے

قاصد نئی ادا سے ادائے پیام ہو

قاصد نئی ادا سے ادائے پیام ہو مطلب یہ ہے کہ بات نہ ہو اور کلام ہو باقی ہے شوق راہ میں کیوں کر قیام ہو ہاتھ آئیں ان کے پاؤں تو منزل تمام ہو کیا خوش ہو دل کہ ہے وہ جفا جو زمیں سے دور تم کیسے آسمان کے قائم مقام ہو فرماں روائے حسن کو ہوتا نہیں فروغ جب تک نہ عشق اس کا مدار المہام ...

مزید پڑھیے

اے دل نہ سن افسانہ کسی شوخ حسیں کا

اے دل نہ سن افسانہ کسی شوخ حسیں کا ناعاقبت اندیش رہے گا نہ کہیں کا دنیا کا رہا ہے دل ناکام نہ دیں کا اس عشق بد انجام نے رکھا نہ کہیں کا ہیں تاک میں اک شوخ کی دزدیدہ نگاہیں اللہ نگہبان ہے اب جان حزیں کا حالت دل بیتاب کی دیکھی نہیں جاتی بہتر ہے کہ ہو جائے یہ پیوند زمیں کا گو قدر ...

مزید پڑھیے

عشق کرتے ہیں تو اہل عشق یوں سودا کریں

عشق کرتے ہیں تو اہل عشق یوں سودا کریں ہوش کا سرمایہ نذر حسن بے پروا کریں ہم نہ ہوں لیکن زمانے میں ہمارا نام ہو ایسی ہستی چاہیئے تو مر کے ہم پیدا کریں ہے خود آرائی کسی کی شان خودداری کے ساتھ یعنی ان کو ہم نہ دیکھیں وہ ہمیں دیکھا کریں درس عرفاں کے لیے ہر ذرہ ہے طور کلیم دیکھنے ...

مزید پڑھیے

یہاں بغیر فغاں شب بسر نہیں ہوتی

یہاں بغیر فغاں شب بسر نہیں ہوتی وہاں اثر نہیں ہوتا خبر نہیں ہوتی خلش جگر میں ہے دل کو خبر نہیں ہوتی چبھی ہے پھانس ادھر سے ادھر نہیں ہوتی عبث ہی کل کے لئے التوائے مشق خرام قیامت آج ہی کیوں فتنہ گر نہیں ہوتی جو ان سے دور ہے اس کے لئے ہیں چشم براہ ہم ان کے پاس ہیں ہم پر نظر نہیں ...

مزید پڑھیے

چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا

چاہیئے عشق میں اس طرح فنا ہو جانا جس طرح آنکھ اٹھے محو ادا ہو جانا کسی معشوق کا عاشق سے خفا ہو جانا روح کا جسم سے گویا ہے جدا ہو جانا موت ہی آپ کے بیمار کی قسمت میں نہ تھی ورنہ کب زہر کا ممکن تھا دوا ہو جانا اپنے پہلو میں تجھے دیکھ کے حیرت ہے مجھے خرق عادت ہے ترا وعدہ وفا ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5527 سے 6203