قومی زبان

فکر کے شعلوں میں چلتی زندگی

فکر کے شعلوں میں چلتی زندگی تب نکھرتی ہے ہماری زندگی ہم نے دیکھا حادثوں کی بھیڑ میں موت کے منہ سے نکلتی زندگی جب یہ کرتی ہے تمہارا انتظار تب نہیں کاٹے سے کٹتی زندگی گود سے ہے گور تک بے چینیاں المیہ ہے بیٹیوں کی زندگی سینچا جائے گر مشقت سے اسے پھول کی صورت مہکتی زندگی پھول ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسا ہے جو ابھی کھویا نہیں ہے

نا جانے کیا ہے مگر اس کے کھو جانے کا احساس اس قدر گہرا ہے شاید وہ ابھی ملا بھی نہیں ہے کچھ بہت اپنا جو میرا نہیں ہے مگر اس کے کھو جانے کا احساس اس قدر گہرا ہے احساس جو مسکراتے ہوئے آنکھوں میں آنسو لے آئے اور سرشاری کے لمحوں میں گہری اداسی کا رنگ بھر جائے وعدہ کیا تھا پیار سدا ہم اک ...

مزید پڑھیے

گلی کا عام سا چہرہ بھی پیارا ہونے لگتا ہے

گلی کا عام سا چہرہ بھی پیارا ہونے لگتا ہے محبت میں تو ذرہ بھی ستارا ہونے لگتا ہے یہاں گم سم سے لوگوں پر کبھی پلکیں نہیں اٹھیں اشارا کرنے والوں کو اشارا ہونے لگتا ہے ہماری زندگی پر ہے ہمارے عشق کا سایہ کہ ہم جو کام کرتے ہیں خسارا ہونے لگتا ہے محبت کی عدالت بھی بھلا کیسی عدالت ...

مزید پڑھیے

جانے کیسی بادلوں کے درمیاں سازش ہوئی

جانے کیسی بادلوں کے درمیاں سازش ہوئی میرا گھر مٹی کا تھا میرے ہی گھر بارش ہوئی دہمکیٔ اوراق میں کل شب جو اس کا خط ملا ننگے پاؤں گھاس پر چلنے کی پھر خواہش ہوئی جن کی بنیادیں ہی اپنے پاؤں پر گرنے کو تھیں ان گھروں کی ریشمی پردوں سے آرائش ہوئی میرے خوں کا ذائقہ جب دوستوں نے چکھ ...

مزید پڑھیے

مرے لبوں پہ تو برسوں سے اک صدا بھی نہیں

مرے لبوں پہ تو برسوں سے اک صدا بھی نہیں یہ کیسی چیخ تھی گھر میں تو دوسرا بھی نہیں تری کتاب میں رکھی تھی تتلیاں جس نے وہ میں ہی تھا یہ بتانے کا حوصلہ بھی نہیں وہ احتیاط سے خود کو سنبھالے رکھتا ہے میں ٹوٹ پھوٹ گیا اس کو کچھ ہوا بھی نہیں ذرا سی بات پہ خنجر نکال لیتا ہے کسی کو عشق ...

مزید پڑھیے

اپنی ہی آواز کے قد کے برابر ہو گیا

اپنی ہی آواز کے قد کے برابر ہو گیا مرتبہ انساں کا پھر بالا و برتر ہو گیا دل میں در آیا تو مثل گل معطر ہو گیا میرے شعروں کا سراپا جس کا پیکر ہو گیا ڈھلتے سورج نے دیا ہے کتنی یادوں کو فروغ چاند یوں ابھرا کہ ہر ذرہ اجاگر ہو گیا اب تو اپنے جسم کے سائے سے بھی لگتا ہے ڈر گھر سے باہر بھی ...

مزید پڑھیے

ذہن کا سفر تنہا دل کی رہ گزر تنہا

ذہن کا سفر تنہا دل کی رہ گزر تنہا آدمی ہوا یارو آج کس قدر تنہا مقتدر سہاروں کی ہر قدم پہ حاجت ہے کب مقام پاتا ہے اپنا یہ ہنر تنہا پھر مجھے ڈرائیں گی خامشی کی آوازیں پھر مجھے ہے طے کرنا رات کا سفر تنہا جس کے سائے نے ہم کو بارہا پناہیں دیں آج بھی کھڑا ہے وہ راہ میں شجر تنہا دور بے ...

مزید پڑھیے

مآل سوز طلب تھا دل تپاں معلوم

مآل سوز طلب تھا دل تپاں معلوم ستم کی آگ بھی ہونے لگی دھواں معلوم شکستہ پا بھی پہنچ ہی گئے سر منزل نہ راستے کی خبر تھی نہ کارواں معلوم شمیم دوست بڑھاتی ہے زندگی لیکن ہمیں حقیقت ہستی ابھی کہاں معلوم نہ جانے فتنہ گروں نے لگائی تھی کب آگ ہمیں تو آنچ ہوئی اس کی ناگہاں معلوم گزر ...

مزید پڑھیے

جدھر سے وادیٔ حیرت میں ہم گزرتے ہیں

جدھر سے وادیٔ حیرت میں ہم گزرتے ہیں ادھر تو اہل تمنا بھی کم گزرتے ہیں ترے حضور جو انفاس غم گزرتے ہیں عجب حیات کے عالم سے ہم گزرتے ہیں رواں ہے برق کا شعلہ سحاب رحمت میں نقاب ڈال کے اہل ستم گزرتے ہیں حیات روک رہی ہے کوئی قدم نہ بڑھائے کہ آج منزل ہستی سے ہم گزرتے ہیں للک بڑھا کے ...

مزید پڑھیے

تجھے اپنا بنانا چاہتا ہوں

تجھے اپنا بنانا چاہتا ہوں مگر خود کو بھی پانا چاہتا ہوں تمہاری یاد کو دل میں بسا کر میں سب کچھ بھول جانا چاہتا ہوں ذرا میری طرف بھی ہو توجہ میں حال دل سنانا چاہتا ہوں جو ہر انسان کو سرشار کر دے میں ایسا گیت گانا چاہتا ہوں میں ٹھکرا کر جہاں کی ساری دولت فقط اب تجھ کو پانا چاہتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5518 سے 6203