محبتوں کو کہیں اور پال کر دیکھو
محبتوں کو کہیں اور پال کر دیکھو متاع جاں کو بدن سے نکال کر دیکھو بدل کے دیکھو کبھی نسبتوں کی دنیا کو بدن کو روح کے خانے میں ڈال کر دیکھو سنو اسے تو سماعت سے ماورا ہو کر جو دیکھنا ہو تو آنکھیں نکال کر دیکھو یقین دشت سے پھوٹے گا آب جو کی طرح کہ حرف ''لا'' کی گواہی بحال کر دیکھو نفس ...