جوڑ کر رکھی ہوئی سب پائی پائی لے اڑی
جوڑ کر رکھی ہوئی سب پائی پائی لے اڑی دنیا احساسات کی گاڑھی کمائی لے اڑی مطمئن تھے راز دل ہم میں کہیں محفوظ ہے اس کو بھی تنہائی کی پر آوا جائی لے اڑی ایک صدا آئی قفس کے پار بھی کوئی جال ہے آشیاں کی اور جب ہم کو رہائی لے اڑی سچ کی عریانی پہنتی کیوں قبا تحریر کی چھین لی مجھ سے قلم ...