رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیں
رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیں کون ہے اپنے ہوش میں ظالم کس کا گریباں چاک نہیں جب تھا زمانہ دیوانوں کا اب فرزانے آئے ہیں جب صحرا میں لالہ و گل تھے اب گلشن میں خاک نہیں فتنوں کی ارزانی سے اب ایک اک تار آلودہ ہے ہم دیکھیں کس کس کے دامن ایک بھی دامن پاک نہیں موج تلاطم ...