نہ را ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھو
نہ را ابتدا سمجھو نہ راز انتہا سمجھو نظر والوں تمہیں کرنا ہے اب دنیا میں کیا سمجھو طلب میں صدق ہے تو ایک دن منزل پہ پہنچو گے قدم آگے بڑھاؤ خود کو اپنا رہنما سمجھو یہ کیا انداز ہے اتنا گریز اہل تمنا سے خدا توفیق دے تو اہل دل کا مدعا سمجھو تمہارے ہر اشارے پر سر تسلیم خم ...