باتوں پہ دھیان دیجیے
باتوں پہ دھیان دیجیے مجھ کو امان دیجیے میرے لیے تو عشق میں بس آپ جان دیجیے خوش کرنا ہو اگر مجھے گل اور پان دیجیے گر واقعی یہ عشق ہے تو پھر اذان دیجیے گر عشق کا ہے ڈر تو پھر دنیا پہ دھیان دیجیے
باتوں پہ دھیان دیجیے مجھ کو امان دیجیے میرے لیے تو عشق میں بس آپ جان دیجیے خوش کرنا ہو اگر مجھے گل اور پان دیجیے گر واقعی یہ عشق ہے تو پھر اذان دیجیے گر عشق کا ہے ڈر تو پھر دنیا پہ دھیان دیجیے
جتنا ہو پائے تم سے پلاؤ اداس ہوں بس آج میرے کام آ جاؤ اداس ہوں ایسے نہیں ملے گا سکوں پینے میں مجھے کوئی یہ بات یاد دلاؤ اداس ہوں ساقی وہی شراب وہی مے کدہ وہی آنکھوں کو کچھ نیا تو دکھاؤ اداس ہوں مجھ کو یہاں تلک جو لے آئے ہو شکریہ اب بس پلاؤ اور پلاؤ اداس ہوں کیا تم یہ چاہتے ہو ...
سوچا تھا دل کو خوش نما کرتے کوئی تو کام ہم نیا کرتے میں نے سوچا یہ تھا کہ ہم دونوں اک شجر ساتھ میں ہرا کرتے دھوپ بارش کو چھوڑ کر کے تم شعر کچھ اس پہ بھی کہا کرتے اس کے آنے سے پہلے ہم سب سے صرف تکلیف میں ملا کرتے گھر پہنچنے کے بعد ہم دونوں نام اللہ کا لیا کرتے
ہر تعلق مٹاتے ہوئے خود سے وعدہ نبھاتے ہوئے اک برس ہو گیا ہے تمہیں میرے دل کو دکھاتے ہوئے یاد ہے کیا کہو گے مجھے اپنی جانب بلاتے ہوئے میرا کردار مر جاتا ہے اک کہانی بناتے ہوئے آ گیا ہوں بہت دور میں صبح کو شب بتاتے ہوئے تم بھی دیر و حرم میں چلو داغ دل کو مٹاتے ہوئے
تمہیں جس بھی طرف صحرا ملے گا وہیں پر دل مرا ٹھہرا ملے گا ترے ہاتھوں پہ میں رکھ دوں گا لا کر مجھے گر رات کو تارہ ملے گا صدائیں خود کو دے کر دیکھنا تم صداؤں کا اثر گہرا ملے گا مجھے افسوس ہے اس بات سے بھی تمہیں مجھ سے کوئی اچھا ملے گا
لٹاؤں مستیاں سرسبز رہ گزر کی طرح دلوں کو راحتیں بخشوں ہرے شجر کی طرح کرے وہ رات کی مانند داغ داغ مجھے میں رنگ رنگ کروں گا اسے سحر کی طرح وہ دھوپ ہے کہ ہوا پھول ہے کہ شبنم ہے کبھی تو دیکھ اسے صاحب نظر کی طرح وہ بے وفا مجھے دل سے نکال کر دیکھے میں اس کے ذہن میں تڑپوں سدا شرر کی ...
دو پل کے ہیں یہ سب مہ و اختر نہ بھولنا سورج غروب ہونے کا منظر نہ بھولنا کتنی طویل کیوں نہ ہو باطل کی زندگی ہر رات کا ہے صبح مقدر نہ بھولنا یادوں کے پھول گھر سے اٹھا کر چلے تو ہو دیکھو انہیں کسی جگہ رکھ کر نہ بھولنا ماں نے لکھا ہے خط میں جہاں جاؤ خوش رہو مجھ کو بھلے نہ یاد کرو گھر ...
اے حسن جب سے راز ترا پا گئے ہیں ہم ہستی سے اپنی اور قریب آ گئے ہیں ہم یوں بھی ہوا کہ جان گنوا دی ترے لیے یوں بھی ہوا کہ تجھ سے بھی کترا گئے ہیں ہم راہ وفا میں ایسے مقامات بھی ملے اپنا سر نیاز بھی ٹھکرا گئے ہیں ہم یادش بخیر اک گل شاداب تھے کبھی ایسی خزاں پڑی ہے کہ کمھلا گئے ہیں ...
ہر اجالا نئی سحر تو نہیں رات کی عمر رات بھر تو نہیں آدمی چند گام بڑھ نہ سکے زندگی اتنی مختصر تو نہیں اک اجالا سا ساتھ رہتا ہے سوچتا ہوں تری نظر تو نہیں ایک ہنگام ہے بیاباں میں کوئی آمادۂ سفر تو نہیں وقت بے شک عظیم ہے لیکن مجھ سے تجھ سے عظیم تر تو نہیں دور کچھ سائے سے ہیں صحرا ...
فرعون وقت کوئی بھی ہو سرکشی کرو یاران شہر میری طرح زندگی کرو امرت نہیں نصیب تو زہراب ہی سہی کچھ تو علاج شدت تشنہ لبی کرو یہ ظلمت تمام مسلسل نہیں قبول دل کا لہو بلا سے جلے روشنی کرو منہ دیکھی دوستی سے اب اکتا گیا ہے دل یارو کرو خلوص سے گو دشمنی کرو ہم ہر نفس کھلائیں گے اپنے لہو ...