قومی زبان

ہنگامۂ آفات ادھر بھی ہے ادھر بھی

ہنگامۂ آفات ادھر بھی ہے ادھر بھی بربادیٔ حالات ادھر بھی ہے ادھر بھی ہونٹوں پہ تبسم کبھی پلکوں پہ ستارے یہ دل کی کرامات ادھر بھی ہے ادھر بھی بے چین اگر میں ہوں تو وہ بھی ہیں پریشاں در پردہ کوئی بات ادھر بھی ہے ادھر بھی آشفتگئ قلب و نظر چھپ نہ سکے گی اک محشر جذبات ادھر بھی ہے ...

مزید پڑھیے

جنون عشق کا جو کچھ ہوا انجام کیا کہئے

جنون عشق کا جو کچھ ہوا انجام کیا کہئے کسی سے اب یہ روداد دل ناکام کیا کہئے پھری کیوں کر نگاہ ساقیٔ گلفام کیا کہئے بھری محفل میں اسباب شکست جام کیا کہئے یہ کیسی دل میں ہے اک ظلمت بے نام کیا کہئے بجھا کیوں دفعتاً از خود چراغ شام کیا کہئے تغافل پر وہ دو حرف شکایت بھی قیامت ...

مزید پڑھیے

کھلونے

ننھا تھرمس ننھی گیس اور ننھا ناشتے دان چھوٹے چھوٹے ببوے اور یہ ان کے بھائی جان چینی کے داروغہ جی اور دفتی کے دربان لائی ہیں اپنے ساتھ ہمارے واسطے یہ سامان آئیں ممانی جان ہماری آئیں ممانی جان آئیں ممانی جان ٹین کا الو موم کا بونا لکڑی کی بندوق کپڑے کے اک جکڑ خاں اور شیشے کا ...

مزید پڑھیے

گڈے میاں کی شادی

گڈے میاں کی شادی ہر اک سمت گونجے ہوئے قہقہے ہنسی دل لگی زمزمے چہچہے زمیں مسکرا آسماں خوب جھوم کہ باقی نگر میں ہے شادی کی دھوم یہاں میہماں اور وہاں میہماں جدھر دیکھیے اور جہاں میہماں غرض میہماں آئے ہیں بے شمار کہ مدت سے اس دن کا تھا انتظار نوشہ بنانے کی رسم وہ گڈے میاں گھر بلائے ...

مزید پڑھیے

طوفان میل

عتیقؔ اور اسلمؔ شعیبؔ اور سلیمؔ رئیسؔ اور آصفؔ نفیسؔ اور وسیمؔ یہ مکتب سے واپس ہوا قافلہ تو رستے میں سب نے یہی طے کیا چلو کھیلتے ہم چلیں ریل ریل عتیقؔ ہوں گے گارڈ اور انجن طفیلؔ یہ سنتے ہی بغلوں میں بستے لئے اور اک صف میں سیدھے کھڑے ہو گئے کھڑے آگے پیچھے یہ جب ہو چکے تو دامن ...

مزید پڑھیے

تنہائیوں میں اشک بہانے سے کیا ملا

تنہائیوں میں اشک بہانے سے کیا ملا خود کو دیا بنا کے جلانے سے کیا ملا مجھ سے بچھڑ کے ریت سا وہ بھی بکھر گیا اس جانے والے شخص کو جانے سے کیا ملا اب بھی مرے وجود میں ہر سانس میں وہی میں سوچتا ہوں اس کو بھلانے سے کیا ملا تو کیا گیا کہ دل مرا خاموش ہو گیا ان دھڑکنوں کے شور مچانے سے کیا ...

مزید پڑھیے

اک بند ہو گیا ہے تو کھولیں گے باب اور

اک بند ہو گیا ہے تو کھولیں گے باب اور ابھریں گے اپنی رات سے سو آفتاب اور روح بشر غلام ہے کوئی بھی ہو نظام اب بھی جہاں کو چاہئے کچھ انقلاب اور جب بھی بڑھی ہے تشنگی ملک‌ و عوام کی چھلکی ہے قصر شاہ میں تھوڑی شراب اور اخلاق کی نقاب میں لے کر ولی کا ڈھونگ نوچیں‌ گے میری لاش کو کتنے ...

مزید پڑھیے

ہم بھی گزر گئے یہاں کچھ پل گزار کے

ہم بھی گزر گئے یہاں کچھ پل گزار کے راتیں تھیں قرض کی یہاں دن تھے ادھار کے جیسے پرانا ہار تھا رشتہ ترا مرا اچھا کیا جو رکھ دیا تو نے اتار کے دل میں ہزار درد ہوں آنسو چھپا کے رکھ کوئی تو کاروبار ہو بن اشتہار کے کیا جانے اب بھی درد کو کیوں ہے مری تلاش ٹکڑے بھی اب کہاں بچے اس کے شکار ...

مزید پڑھیے

جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں

جب بھی ملتے ہیں تو جینے کی دعا دیتے ہیں جانے کس بات کی وہ ہم کو سزا دیتے ہیں حادثے جان تو لیتے ہیں مگر سچ یہ ہے حادثے ہی ہمیں جینا بھی سکھا دیتے ہیں رات آئی تو تڑپتے ہیں چراغوں کے لیے صبح ہوتے ہی جنہیں لوگ بجھا دیتے ہیں ہوش میں ہو کے بھی ساقی کا بھرم رکھنے کو لڑکھڑانے کی ہم افواہ ...

مزید پڑھیے

بکھرا ہوں جب میں خود یہاں کوئی مجھے گرائے کیوں

بکھرا ہوں جب میں خود یہاں کوئی مجھے گرائے کیوں پہلے سے راکھ راکھ ہوں پھر بھی کوئی بجھائے کیوں عیسیٰ نہ وہ نبیؐ کوئی ادنیٰ سا آدمی کوئی پھر بھی صلیب درد کو سر پہ کوئی اٹھائیں کیوں سارے جو غم گسار تھے کب کے رقیب بن چکے ایسے میں دوستوں کوئی اپنا یہ غم سنائے کیوں یکتا وہ ذات اکبری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5440 سے 6203