گزرے جدھر سے نور بکھیرے چلے گئے
گزرے جدھر سے نور بکھیرے چلے گئے وہ ہم سفر ہوئے تو اندھیرے چلے گئے اب میں ہوں اور شدت غم کی ہے تیز دھوپ ان گیسوؤں کے سائے گھنیرے چلے گئے میرے تفکرات کو ڈستی رہی تھی جو ناگن چلی گئی وہ سپیرے چلے گئے امید کے شجر پہ وہ ہلچل نہیں رہی چڑیاں گئیں تو رین بسیرے چلے گئے اندھے سفر کو گھر ...