افسوس ہے بد گماں کی آزادی پر
افسوس ہے بد گماں کی آزادی پر خالق کبھی خوش نہ ہوگا بربادی پر طاعون سے کیوں ہے اتنی وحشت اکبرؔ یہ تو اک ٹیکس ہے اس آبادی پر
افسوس ہے بد گماں کی آزادی پر خالق کبھی خوش نہ ہوگا بربادی پر طاعون سے کیوں ہے اتنی وحشت اکبرؔ یہ تو اک ٹیکس ہے اس آبادی پر
اعزاز سلف کے مٹتے جاتے ہیں نشاں اگلے سے خیالات ہند میں اب وہ کہاں سید بننا ہو تو بنو سر سید ہونا ہو جو ''خاں'' تو بنو انگریز خواں
تدبیر کریں تو اس میں ناکامی ہو تقدیر کا نام لیں تو بد نامی ہو القصہ عجیب ضیق میں ہیں ہندی یورپ کا خدا کہاں پر جو حامی ہو
روزی مل جائے مال و دولت نہ سہی راحت ہو نصیب شان و شوکت نہ سہی گھر بار میں خوش رہیں عزیزوں کے ساتھ دربار میں باہمی رقابت نہ سہی
لفظوں کے چمن بھی اس میں کھل جاتے ہیں بے ساختہ قافیے بھی مل جاتے ہیں دل کو مطلق نہیں ترقی ہوتی تعریف میں سر اگرچہ ہل جاتے ہیں
دلکش نہیں وہ حسیں جسے شرم نہیں رونق نہیں اس کی جس کا دل گرم نہیں سختی میں بھی گداز طینت ہو جو صاف پگھلی ہے برف گو کہ وہ نرم نہیں
سید صاحب سکھا گئے ہیں جو شعور کہتا نہیں تم سے میں کہ ہوں اس سے نفور سوتوں کو جگا دیا انہوں نے لیکن اللہ کا نام لے کے اٹھنا ہے ضرور
اب تک جو کہیں ہماری قسمت نہ لڑی ناحق تجھے ہم نشیں ہے فکر اس کی پڑی انگریز کے ملک میں لڑائی کیسی یہ ہند ہے یہاں خوش انتظامی ہے بڑی
کہہ دو کہ میں خوش ہوں رکھوں گر آپ کو خوش بجلی چمکاؤں اور کروں بھاپ کو خوش سیکھوں ہر علم و فن مگر فرض یہ ہے ہر حال میں رکھوں اپنے ماں باپ کو خوش
ہمدرد ہوں سب یہ لطف آبادی ہے ہمسایہ بھی ہو شریک تب شادی ہے تسکین ہے جبکہ ہو خدا پر تکیہ قانون بنا سکیں تب آزادی ہے