قومی زبان

تیسری پالی

وہ بھی اک اچھا مصور تھا پچھلے بلوے میں ہی اس کے دونوں بازو کٹ گئے اور اس بلوے میں اس کی دونوں آنکھیں بجھ گئیں نور فطرت کی سبھی شکلیں مٹیں بڑی مشکل سے اس اندھے مصور کو ایک کمرہ چال میں ہی مل گیا اور پڑوسن کے وسیلے سے جواں بیٹی کو بھی کارخانے میں سدا کی تیسری پالی ملی اب وہ ماں کی ...

مزید پڑھیے

سناٹا

میری گردن میرے شانے میرے لب سب کے سب ویران ہیں اپنے گھر میں ایک میں ہوں اور کالی رات کا پر ہول سناٹا کسی کے پاؤں کی آہٹ نہیں چوڑیوں اور برتنوں کی کھنکھناہٹ بھی نہیں سوئی دھاگے ایک دوجے سے بھرے بیٹھے ہوئے ہیں دھول میں لپٹی کتابیں میز پر بکھری پڑی ہیں اور چولھا لکڑیوں کی یاد میں ...

مزید پڑھیے

تجسس

اس سرائے میں مسافر کا قیام ایک لمحہ بے یقینی کا جس کو جنت یا جہنم جو بھی کہہ لو کیا کسی پہ انحصار ہر کوئی اپنے عمل کا ذمے دار بھول کر بھی یہ نہ سوچو کہ مقدر بھی بناتا ہے کوئی ورنہ جو ہے سامنے چپ چاپ دیکھو کیا بھلا ہے کیا برا جب تلک سہنے کی طاقت ہے سہو حال دل اپنا کسی سے مت کہو اب تو ...

مزید پڑھیے

گھور اندھیرا

خون چشیدہ صدیوں کا وہ گھور اندھیرا بکھر گیا جنگ و جدل کا جذبہ جاگا امن کا پرچم اتر گیا نصف صدی ڈھلنے کو ہے وہ رات ڈھلے پھر بھی لہو کا بپھرا دریا جاری ہے معصوموں کے نالوں سے مظلوموں کی آہوں سے انسانوں کی چیخوں سے تھراتے ہیں ویرانے سچ کہتا ہے رات ڈھلی رات ڈھلی یا خون میں ڈوبی ہوا ...

مزید پڑھیے

دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا

دل و نگاہ پہ طاری رہے فسوں اس کا تمہارا ہو کے بھی ممکن ہے میں رہوں اس کا زمیں کی خاک تو کب کی اڑا چکے ہیں ہم ہماری زد میں ہے اب چرخ نیلگوں اس کا تجھے خبر نہیں اس بات کی ابھی شاید کہ تیرا ہو تو گیا ہوں مگر میں ہوں اس کا اب اس سے قطع تعلق میں بہتری ہے مری میں اپنا رہ نہیں سکتا اگر ...

مزید پڑھیے

اندیشے مجھے نگل رہے ہیں

اندیشے مجھے نگل رہے ہیں کیوں درد ہی پھول پھل رہے ہیں دیکھو مری آنکھ بجھ رہی ہے دیکھو مرے خواب جل رہے ہیں اک آگ ہماری منتظر ہے اک آگ سے ہم نکل رہے ہیں جسموں سے نکل رہے ہیں سائے اور روشنی کو نگل رہے ہیں یہ بات بھی لکھ لے اے مؤرخ ملبے سے قلم نکل رہے ہیں

مزید پڑھیے

خبر نہیں تھی کسی کو کہاں کہاں کوئی ہے

خبر نہیں تھی کسی کو کہاں کہاں کوئی ہے ہر اک طرف سے صدا آ رہی تھی یاں کوئی ہے یہیں کہیں پہ کوئی شہر بس رہا تھا ابھی تلاش کیجئے اس کا اگر نشاں کوئی ہے جوار قریۂ گریہ سے آ رہی تھی صدا مجھے یہاں سے نکالے اگر یہاں کوئی ہے تلاش کر رہے ہیں قبر سے چھپانے کو ترے جہان میں ہم سا بھی بے اماں ...

مزید پڑھیے

فرات چشم میں اک آگ سی لگاتا ہوا

فرات چشم میں اک آگ سی لگاتا ہوا نکل رہا ہے کوئی اشک مسکراتا ہوا پس گمان کئی واہمے جھپٹتے ہوئے سر یقین کوئی خواب لہلہاتا ہوا گزر رہا ہوں کسی جنت جمال سے میں گناہ کرتا ہوا نیکیاں کماتا ہوا بہ سوئے دشت گماں دے رہا ہے اذن سفر کنار خواب ستارہ سا جھلملاتا ہوا

مزید پڑھیے

وہ بھی کیا دن تھے کیا زمانے تھے

وہ بھی کیا دن تھے کیا زمانے تھے روز اک خواب دیکھ لیتے تھے اب زمیں بھی جگہ نہیں دیتی ہم کبھی آسماں پہ رہتے تھے آخرش خود تک آن پہنچے ہیں جو تری جستجو میں نکلے تھے خواب گلیوں میں پھر رہے تھے اور لوگ اپنے گھروں میں سوئے تھے ہم کہیں دور تھے بہت ہی دور اور ترے آس پاس بیٹھے تھے

مزید پڑھیے

ہمارے جسم اگر روشنی میں ڈھل جائیں

ہمارے جسم اگر روشنی میں ڈھل جائیں تصورات زمان و مکاں بدل جائیں ہمارے بیچ ہمیں ڈھونڈتے پھریں یہ لوگ ہم اپنے آپ سے آگے کہیں نکل جائیں یہ کیا بعید کسی آنے والے لمحے میں ہمارے لفظ بھی تصویر میں بدل جائیں ہم آئے روز نیا خواب دیکھتے ہیں مگر یہ لوگ وہ نہیں جو خواب سے بہل جائیں یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5413 سے 6203