قومی زبان

یوں جو کھلتا ہے زمانے کا بھرم اچھا ہے

یوں جو کھلتا ہے زمانے کا بھرم اچھا ہے ہم پہ ہوتے ہیں زمانے کے ستم اچھا ہے وہ قدم کیا جو تجسس میں رہے منزل کے بڑھ کے خود چوم لے منزل وہ قدم اچھا ہے ہے تمنائے اسیری تو کبھی اس میں الجھ گیسوئے وقت کا پیچ اچھا ہے خم اچھا ہے امن و انصاف و مساوات کی خاطر لوگو تم اٹھاؤ جو بغاوت کا علم ...

مزید پڑھیے

جو سخت تر ہے وہ مشکل ابھی نہیں آئی

جو سخت تر ہے وہ مشکل ابھی نہیں آئی بڑھو کہ سرحد منزل ابھی نہیں آئی حیات ڈھونڈے گی جائے اماں نہ پائے گی وہ آزمائش قاتل ابھی نہیں آئی سن بلوغ کو پہونچا نہیں جنوں شاید کہ قید طوق و سلاسل ابھی نہیں آئی نہ جانے ہوں گے یہاں قتل کتنے حق والے سمجھ میں سازش باطل ابھی نہیں آئی خدا کا ...

مزید پڑھیے

حال دل بھی سنا کے کیا ہوگا

حال دل بھی سنا کے کیا ہوگا بے وفا کیسے با وفا ہوگا درد حد سے اگر سوا ہوگا جان جائے گی اور کیا ہوگا نا توانوں پہ سو طرح کے ستم سوچ انجام ظلم کیا ہوگا جان دے دیں گے راہ الفت میں یوں محبت کا حق ادا ہوگا ہم تو جور و جفا کے خوگر ہیں آپ سے اس کا کیا گلہ ہوگا سود در سود بڑھتا جاتا ...

مزید پڑھیے

شہر کا شہر جلا اور اجالا نہ ہوا

شہر کا شہر جلا اور اجالا نہ ہوا سانحہ کیا یہ مقدر کا نرالا نہ ہوا ہے فقط نام کو آزادئ اظہار خیال ورنہ کب کس کے لبوں پر یہاں تالا نہ ہوا ٹوٹتے شیشے کو دیکھا ہے زمانے بھر نے دل کے ٹکڑوں کا کوئی دیکھنے والا نہ ہوا جس نے پرکھا انہیں وہ تھی کوئی بے جان مشین دل کے زخموں کا بشر دیکھنے ...

مزید پڑھیے

حسن والوں کا اعتبار نہ کر

حسن والوں کا اعتبار نہ کر خوش جمالوں کا اعتبار نہ کر سازش تیرگی میں جو ہوں شریک ان اجالوں کا اعتبار نہ کر کب بدل جائیں یہ نہیں معلوم ہم خیالوں کا اعتبار نہ کر راہزن راہبر کے بھیس میں ہیں ان کی چالوں کا اعتبار نہ کر جن کا الجھا سا ہر جواب ملے ان سوالوں کا اعتبار نہ کر جو خود ...

مزید پڑھیے

آہ دل پر اثر نہ ہو جائے

آہ دل پر اثر نہ ہو جائے حسن کی آنکھ تر نہ ہو جائے داغ دل کی ترقیاں توبہ یہ ستارہ قمر نہ ہو جائے آشیاں تو بنا رہا ہوں مگر بجلیوں کو خبر نہ ہو جائے ڈر ہے گلشن کا آشیاں کا نہیں نذر برق و شرر نہ ہو جائے راز دل اس لئے نہیں کہتا عشق نا معتبر نہ ہو جائے دل سے ان کو بھلا تو دوں ...

مزید پڑھیے

جہان بے ثباتی میں تماشائے جہاں کب تک

جہان بے ثباتی میں تماشائے جہاں کب تک چمکتے مہر و مہ تارے زمین و آسماں کب تک شب غم میں تجلی پر نہ اترا اے دل مضطر ستاروں کی یہ چشمک اور رقص کہکشاں کب تک سمندر کی خموشی ایک طوفاں ساتھ لائے گی کسی نا مہرباں کی یہ نگاہ مہرباں کب تک بڑھائے جا قدم تو بڑھ کے سرگرم عمل ہو جا یوں ہی تکتا ...

مزید پڑھیے

جگنو

کنارے جھیل کے پھرتا ہے جگنو کبھی اڑتا کبھی گرتا ہے جگنو ہوا کی گود میں اک روشنی ہے کہ ننھی شمع کوئی اڑ رہی ہے ستارہ سا چمکتا ہے فضا میں شرارہ اڑتا پھرتا ہے ہوا میں کوئی مہتاب سی چھوٹی ہے گویا ستارے کی کرن ٹوٹی ہے گویا اندھیرے میں سنہری تیتری ہے کہ سونے کی کوئی ننھی پری ہے ہری ...

مزید پڑھیے

دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا

دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا تمہارے عشق میں سب کچھ تباہ کر لوں گا اگر مجھے نہ ملیں تم تمہارے سر کی قسم میں اپنی ساری جوانی تباہ کر لوں گا مجھے جو دیر و حرم میں کہیں جگہ نہ ملی ترے خیال ہی کو سجدہ گاہ کر لوں گا جو تم سے کر دیا محروم آسماں نے مجھے میں اپنی زندگی صرف گناہ کر لوں ...

مزید پڑھیے

سورج کی کرنوں کا گیت

سنہری سورج نے آسماں پر کہا کہ کیا بھیجوں میں زمیں کو یہ راگ تھا کرنوں کی زباں پر زمیں پہ جانے دو تم ہمیں کو ترس گیا دھوپ کو زمانہ ہیں کب سے چھائی ہوئی گھٹائیں جو آج کر دو ہمیں روانہ زمین پر نور جا بچھائیں گھٹا کے پردوں کو چاک کر دیں زمین پر روشنی لٹائیں چمن کو کیچڑ سے پاک کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5371 سے 6203