لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا
لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا ترا پیام تو خاموش سی ہوا نے دیا جلا رہا تھا مجھے میں نے بھی جلانے دیا اجالا اس نے دیا بھی تو کس بہانے دیا ابھی کچھ اور ٹھہر جاتا میرے کہنے پر وہ جانے والا تھا خود ہی سو میں نے جانے دیا وہ اپنی سیر کے قصے مجھے سناتا رہا مجھے تو حال دل اس نے ...