قومی زبان

لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا

لرز اٹھا ہے مرے دل میں کیوں نہ جانے دیا ترا پیام تو خاموش سی ہوا نے دیا جلا رہا تھا مجھے میں نے بھی جلانے دیا اجالا اس نے دیا بھی تو کس بہانے دیا ابھی کچھ اور ٹھہر جاتا میرے کہنے پر وہ جانے والا تھا خود ہی سو میں نے جانے دیا وہ اپنی سیر کے قصے مجھے سناتا رہا مجھے تو حال دل اس نے ...

مزید پڑھیے

اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا

اپنی باہوں کو ہم نے پتوار کیا تھا تب جا کر وہ خون کا دریا پار کیا تھا پتھر پھینک کے لوگوں نے جب عزت بخشی ہم نے اپنے ہاتھوں کو دستار کیا تھا کون سے خواب نے رات اپنی آنکھیں کھولی تھیں کس کی خوشبو نے دل کو بیدار کیا تھا اس نے دل پر قبضہ کیا بن بیٹھا آمر ہم نے جس کی شاہی سے انکار کیا ...

مزید پڑھیے

ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے

ترے بغیر مسافت کا غم کہاں کم ہے مگر یہ دکھ کہ مری عمر رائیگاں کم ہے مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کر مری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے تجھے خبر بھی کہاں ہے مرے ارادوں کی تو میری سوچتی آنکھوں کا راز داں کم ہے اسی سے ہو گئے مانوس طائران چمن وہ جو کہ باغ کا دشمن ہے باغباں کم ...

مزید پڑھیے

یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے

یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے آنکھ تو اس پر بھی حیراں ہے کہ کیا کیا جھوٹ ہے مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے خون میں شامل اچھوتی خوشبوؤں کے ساتھ ساتھ کیوں کہوں مجھ میں جو بہتا ہے وہ دریا جھوٹ ہے زندگی کے بارے اتنا ہی کہا سچ ...

مزید پڑھیے

پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے

پڑے تھے ہم بھی جہاں روشنی میں بکھرے ہوئے کئی ستارے ملے اس گلی میں بکھرے ہوئے مری کہانی سے پہلے ہی جان لے پیارے کہ حادثے ہیں مری زندگی میں بکھرے ہوئے دھنک سی آنکھ کہے بانسری کی لے میں مجھے ستارے ڈھونڈ کے لا نغمگی میں بکھرے ہوئے میں پر سکون رہوں جھیل کی طرح یعنی کسی خیال کسی ...

مزید پڑھیے

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف

ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف تیرے لیے میں پاؤں پہ اپنے جم کے کھڑا تھا ایک طرف ایک اک کر کے ہر منزل کی سمت ہی بھول رہا تھا میں دھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا تیرا رشتہ ایک طرف دونوں سے میں بچ کر تیرے خواب و خیال سے گزر گیا دل کا صحرا ایک طرف تھا آنکھ کا دریا ایک طرف آگے آگے ...

مزید پڑھیے

اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے

اے دنیا تیرے رستے سے ہٹ جائیں گے آخر ہم بھی اپنے سامنے ڈٹ جائیں گے ہم خود کو آباد کریں گے اپنے دل میں تیرے آنکھ جزیرے سے اب کٹ جائیں گے دھند سے پار بھی کام کریں گی اپنی نظریں آنکھ کے سامنے سے یہ بادل چھٹ جائیں گے آخر ڈھل جائے گا ''جیون روگ'' کا سورج ہم بھی ''اوکھے دن'' ہیں لیکن کٹ ...

مزید پڑھیے

دن گزرتے جا رہے ہیں

ہم بھی مرتے جا رہے ہیں بعد تیرے ہم دکھوں کے آنسوؤں کے باد و باراں میں نہتے دل کے ساتھ بے پناہی راستوں پر پاؤں دھرتے جا رہے ہیں دن گزرتے جا رہے ہیں لمحہ لمحہ خوف کے مارے ہوئے رات دن کے وسوسوں میں کیا خبر کیا بیت جائے اگلے پل اس سفر میں ذہن سوچوں کے تھپیڑوں سے ہے شل اور ہم خود ہی سے ...

مزید پڑھیے

وقت بے رحم ہے مقتل کی زمینوں جیسا

وقت بے رحم ہے مقتل کی زمینوں جیسا اور ہمدرد ہے مخلص کی دعاؤں جیسا کوئی منظر نہیں برسات کے موسم میں بھی اس کی زلفوں سے پھسلتی ہوئی دھوپوں جیسا آبلوں کی طرح رہنے نہ دیا اشکوں کو میری پلکوں نے کیا کام ببولوں جیسا سنگ دل ہے نہ فریبی نہ جفاکار ہے وہ میرا محبوب ہے معصوم فرشتوں ...

مزید پڑھیے

ہاتھ جب موسم کے گیلے ہو گئے ہیں

ہاتھ جب موسم کے گیلے ہو گئے ہیں زخم دل کے اور گہرے ہو گئے ہیں بانٹتے تھے جو بہار زندگانی بند اب وہ بھی دریچے ہو گئے ڈوب جائے گا ہمارے ساتھ وہ بھی یہ جو سوچا ہاتھ ڈھیلے ہو گئے ہیں لاج رکھنی پڑ گئی ہے دوستوں کی ہم بھری محفل میں جھوٹے ہو گئے ہیں اے غم ماضی تجھے میں نذر کیا دوں خشک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5363 سے 6203