قومی زبان

آگہی کے ویرانے

چاند نے داغوں کو دھونا چاہا تاکہ پر نور بدن وادیٔ احساس کو روشن کر دے چشمۂ صبح کی جانب وہ بڑھا جیسے ہی مرمریں کرنوں پہ سفاک اندھیروں کا ہجوم حملہ آور ہوا قزاق اجل کی مانند ٹوٹ کر چاند گرا غار سیہ میں آنکھیں بجھ گئیں محفل انجم کی سبک رو شمعیں سر نگوں مہر بہ لب پہلے تو کچھ دیر ...

مزید پڑھیے

گیان

میں کہ صبح ازل جستجوئے بشر میں چلا تھا جستجوئے بشر میں چلا تھا آج تک رات دن صرف چلتا رہا اب جو پہنچا ہوں اس دشت میں تو یہ بوسیدہ قبروں کے مٹتے خطوط مجھ سے کہتے ہیں آگے ان فصیلوں سے کچھ ہی پرے ایک بستی بھی آباد ہے

مزید پڑھیے

لا حاصل لا حاصل

سعئ لا حاصل سہی کھلنے دے خوابوں کے کنول دائروں میں گھومنے والوں نے دیکھے ہیں سرابوں کے کنول اونگھتے سورج کے پیلے عکس نے آنکھوں میں بھر دیں کرچیاں سوز محرومی ہے شہہ رگ میں نہاں دن کے چہرے سے عیاں پیلے پیلے دائروں کی موج میں کھلنے دے خوابوں کے کنول تشنہ سرابوں کے کنول سعئ لا حاصل ...

مزید پڑھیے

نہیں ہوتا

اثر ہم پر ذرا نہیں ہوتا کوئی گر کارگر نہیں ہوتا سر پہ ڈنڈوں کی بارشیں بھی ہوئیں ہم سے پوچھو کہ کیا نہیں ہوتا مرغ اکثر بنائے جاتے ہیں آہ پھر بھی اثر نہیں ہوتا ہم نے لڈو چرائے ہیں اکثر جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا لکھنے پڑھنے سے بیر ہے ہم کو پیار اس سے کبھی نہیں ہوتا مار جب بے پناہ پڑتی ...

مزید پڑھیے

ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھر

ایک کھڑکی گلی کی کھلی رات بھر منتظر جانے کس کی رہی رات بھر ہم جلاتے رہے اپنے دل کے دیے تیرگی قتل ہوتی رہی رات بھر میری آنکھوں کو کر کے عطا رت جگے میری تنہائی سوتی رہی رات بھر ایک خوشبو درازوں سے چھنتی ہوئی دستکیں جیسے دیتی رہی رات بھر دل کے اندر کوئی جیسے چلتا رہا چاپ قدموں کی ...

مزید پڑھیے

خوشی نے مجھ کو ٹھکرایا ہے درد و غم نے پالا ہے

خوشی نے مجھ کو ٹھکرایا ہے درد و غم نے پالا ہے گلوں نے بے رخی کی ہے تو کانٹوں نے سنبھالا ہے محبت میں خیال ساحل و منزل ہے نادانی جو ان راہوں میں لٹ جائے وہی تقدیر والا ہے جہاں بھر کو متاع لالہ و گل بخشنے والو ہمارے دل کا کانٹا بھی کبھی تم نے نکالا ہے کناروں سے مجھے اے ناخداؤ دور ہی ...

مزید پڑھیے

اب چھلکتے ہوئے ساغر نہیں دیکھے جاتے

اب چھلکتے ہوئے ساغر نہیں دیکھے جاتے توبہ کے بعد یہ منظر نہیں دیکھے جاتے مست کر کے مجھے اوروں کو لگا منہ ساقی یہ کرم ہوش میں رہ کر نہیں دیکھے جاتے ساتھ ہر ایک کو اس راہ میں چلنا ہوگا عشق میں رہزن و رہبر نہیں دیکھے جاتے ہم نے دیکھا ہے زمانے کا بدلنا لیکن ان کے بدلے ہوئے تیور نہیں ...

مزید پڑھیے

آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے

آج جلتی ہوئی ہر شمع بجھا دی جائے غم کی توقیر ذرا اور بڑھا دی جائے کیا اسی واسطے سینچا تھا لہو سے اپنے جب سنور جائے چمن آگ لگا دی جائے عقل کا حکم کہ ساحل سے لگا دو کشتی دل کا اصرار کہ طوفاں سے لڑا دی جائے دور تک دل میں دکھائی نہیں دیتا کوئی ایسے ویرانے میں اب کس کو صدا دی ...

مزید پڑھیے

کاٹی ہے غم کی رات بڑے احترام سے

کاٹی ہے غم کی رات بڑے احترام سے اکثر بجھا دیا ہے چراغوں کو شام سے روشن ہے اپنی بزم اور اس اہتمام سے کچھ دل بھی جل رہا ہے چراغوں کے نام سے مدت ہوئی ہے خون تمنا کئے مگر اب تک ٹپک رہا ہے لہو دل کے جام سے صبح بہار ہم کو بلاتی رہی مگر ہم کھیلتے رہے کسی زلفوں کی شام سے ہر سانس پر ہے موت ...

مزید پڑھیے

غم سے منسوب کروں درد کا رشتہ دے دوں

غم سے منسوب کروں درد کا رشتہ دے دوں زندگی آ تجھے جینے کا سلیقہ دے دوں بے چراغی یہ تری شام غریباں کب تک چل تجھے جلتے مکانوں کا اجالا دے دوں زندگی اب تو یہی شکل ہے سمجھوتے کی دور ہٹ جاؤں تری راہ سے رستا دے دوں تشنگی تجھ کو بجھانا مجھے منظور نہیں ورنہ قطرہ کی ہے کیا بات میں دریا دے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5358 سے 6203