قومی زبان

اک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتا

اک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتا مل جائے کوئی شخص تو سارا نہیں ملتا اس کی بھی نکل آتی ہے اظہار کی صورت جس شخص کو لفظوں کا سہارا نہیں ملتا پھر ڈوبنا یہ بات بہت سوچ لو پہلے ہر لاش کو دریا کا کنارا نہیں ملتا یہ سوچ کے دل پھر سے ہے آمادۂ الفت ہر بار محبت میں خسارہ نہیں ...

مزید پڑھیے

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں جھگڑے سارے انا کے ہوتے ہیں بات نیت کی صرف ہے ورنہ وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں بھول جاتے ہیں مت برا کہنا لوگ پتلے خطا کے ہوتے ہیں وہ بظاہر جو کچھ نہیں لگتے ان سے رشتے بلا کے ہوتے ہیں وہ ہمارا ہے اس طرح شاید جیسے بندے خدا کے ہوتے ہیں بخش دینا بھی ٹھیک ہے ...

مزید پڑھیے

بنتے کھیل بگڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے

بنتے کھیل بگڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے سارے لوگ بچھڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے سپنوں سے مت جی بہلاؤ دیکھو لوگو سپنے پیچھے پڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے ضبط کرو تو بہتر ہے دیوانو ورنہ آنسو زور پکڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے جتنا ہوتا ہے اخترؔ کوئی کسی کے پاس اتنے فاصلے بڑھ جاتے ہیں دھیرے دھیرے

مزید پڑھیے

لفظ لکھنا ہے تو پھر کاغذ کی نیت سے نہ ڈر

لفظ لکھنا ہے تو پھر کاغذ کی نیت سے نہ ڈر اس قدر اظہار کی بے معنویت سے نہ ڈر دیکھ! گلشن میں ابھی شاخ تحیر بانجھ ہے پھول ہونا ہے تو کھلنے کی اذیت سے نہ ڈر ہم رہ موسم سفر کی بستیوں کے درمیاں نقش بر دیوار بارش کی وصیت سے نہ ڈر ایک ہلکی سی صدا تو بن زباں رکھتا ہے تو چار جانب خامشی کی ...

مزید پڑھیے

نیا سال

پھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہے اور مٹتے ہوئے مدھم سے نقوش دور ماضی کی خلاؤں میں نظر آتے ہیں جیسے چھوڑی ہوئی منزل کا نشاں جیسے کچھ دور سے آتی ہوئی آواز جرس کون سہمے ہوئے مایوس دیوں کو دیکھے پھر بھی یہ مجھ کو خیال آتا ہے کتنی نوخیز امیدوں کو سہارے نہ ملے کتنی ڈوبی ہوئی کشتی کو ...

مزید پڑھیے

شکست

گھنے درخت کے سائے میں کون بیٹھا ہے تصورات کی سو مشعلیں جلائے ہوئے ریاض و فکر کی لہریں جوان چہرے پر سیاہ زلف مشیت کا دل چرائے ہوئے یہ اضطراب کہ اندر کا دل دھڑکتا ہے یہ ارتعاش کہ کہسار تھرتھرائے ہوئے یہ آدمی نہ کہیں ضبط زندگی سہہ کر مجھی سے چھین لے میرے کنول جلائے ہوئے کہو کہو کسی ...

مزید پڑھیے

گھروندے

گھنٹیاں گونج اٹھیں گونج اٹھیں گیس بے کار جلاتے ہو بجھا دو برنر اپنی چیزوں کو اٹھا کر رکھو جاؤ گھر جاؤ لگا دو یہ کواڑ ایک نیلی سی حسیں رنگ کی کاپی لے کر میں یہاں گھر کو چلا آتا ہوں ایک سگریٹ کو سلگاتا ہوں وہ مری آس میں بیٹھی ہوگی وہ مری راہ بھی تکتی ہوگی کیوں ابھی تک نہیں آئے ...

مزید پڑھیے

یہ عورتیں

سوچ لو سوچ لو جینے کا یہ انداز نہیں اپنی بانہوں کا یہی رنگ نمایاں نہ کرو حسن خود زینت محفل ہے چراغاں نہ کرو نیم عریاں سا بدن اور ابھرتے سینے تنگ اور ریشمی ملبوس دھڑکتے سینے تار جب ٹوٹ گئے ساز کوئی ساز نہیں تم تو عورت ہو مگر جنس گراں بن نہ سکیں اور آنکھوں کی یہ گردش یہ چھلکتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

لمس آخری

نہ رؤو جبر کا عادی ہوں مجھ پہ رحم کرو تمہیں قسم مری وارفتہ زندگی کی قسم نہ رؤو بال بکھیرو نہ تم خدا کے لیے اندھیری رات میں جگنو کی روشنی کی قسم میں کہہ رہا ہوں نہ رؤو کہ مجھ کو ہوش نہیں یہی تو خوف ہے آنسو مجھے بہا دیں گے میں جانتا ہوں کہ یہ سیل بھی شرارے ہیں مری حیات کی ہر آرزو جلا ...

مزید پڑھیے

اے نگار وطن

تجھے کچھ اس کی خبر بھی ہے اے نگار وطن ترے لئے کوئی سینہ فگار ہے اب بھی اٹھا چکا ہوں فریب وفا کے داغ مگر شکستہ دل کو ترا اعتبار ہے اب بھی ہزاروں کاہکشاں نے بچھائے جال مگر مری نظر میں تری رہ گزار ہے اب بھی وہ ایک قطرہ جو ٹپکا تھا تیرے دامن پر وہ ایک نقش مرا شاہکار ہے اب بھی وہ ایک لمحہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5359 سے 6203