مجھے خواب سراب عذاب دئے مری روح کا نغمہ چھین لیا
مجھے خواب سراب عذاب دئے مری روح کا نغمہ چھین لیا آشوب ملال عشرت جاں وجدانؔ سے کیا کیا چھین لیا اک رنج سفر کی دھول مرے چہرے پہ گرد ملال ہوئی اک کیف جو سنگی ساتھی تھا اس کیف کا سایہ چھین لیا مرے ہاتھ بھی زخم دل کی طرح میں ٹوٹ گیا ساحل کی طرح اے درد غم ہجراں تو نے کیا مجھ کو دیا کیا ...