قومی زبان

ہر ایک ذہن میں سارا حساب رہتا ہے

ہر ایک ذہن میں سارا حساب رہتا ہے سوال سننے سے پہلے جواب رہتا ہے وہ ایک موڑ جہاں ایک دن لٹا تھا میں وہیں مرا دل خانہ خراب رہتا ہے ہوا کے دم پہ ہے جب زندگی کا دار و مدار تو کیوں غرور تجھے اے حباب رہتا ہے چلے گی چال کوئی گردش فلک شاید کئی دنوں سے بڑا اضطراب رہتا ہے وہ جھولی کیسے ...

مزید پڑھیے

کرم کرتا ہے وہ جس پر

کرم کرتا ہے وہ جس پر اسے جینا سکھاتا ہے وہ جس سے پیار کرتا ہے اسی کو آزماتا ہے محافظ ہے خدا تیرا نہیں وہ ٹوٹنے دے گا رکھے گا حوصلہ جو تو تجھے انعام بخشے گا نہیں آئے یقیں تو دیکھ لے قرآن پڑھ کر تو وہ ہمت سے زیادہ کب کسی کو آزماتا ہے

مزید پڑھیے

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ وہ ادب گہ محبت وہ نگہ کا تازیانہ یہ بتان عصر حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں نہ ادائے کافرانہ نہ تراش آزرانہ نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغت یہ جہاں عجب جہاں ہے نہ قفس نہ آشیانہ رگ تاک منتظر ہے تری بارش کرم کی کہ عجم کے مے کدوں میں نہ رہی مے ...

مزید پڑھیے

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہیں اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا ترے ...

مزید پڑھیے

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے اسی خطا ...

مزید پڑھیے

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں مگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ ...

مزید پڑھیے

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات میں حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں گرچہ ہے میری جستجو دیر و حرم کی نقشہ بند میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں گاہ مری نگاہ تیز چیر گئی دل وجود گاہ الجھ کے رہ گئی میرے ...

مزید پڑھیے

یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن (ردیف .. د)

یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن کیوں خوار ہیں مردان صفا کیش و ہنر مند گو اس کی خدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھ دنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند تو برگ گیا ہے نہ وہی اہل خرد را او کشت گل و لالہ بہ بخشد بہ خرے چند حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گلگوں مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و ...

مزید پڑھیے

فطرت کو خرد کے روبرو کر

فطرت کو خرد کے روبرو کر تسخیر مقام رنگ و بو کر تو اپنی خودی کو کھو چکا ہے کھوئی ہوئی شے کی جستجو کر تاروں کی فضا ہے بیکرانہ تو بھی یہ مقام آرزو کر عریاں ہیں ترے چمن کی حوریں چاک گل و لالہ کو رفو کر بے ذوق نہیں اگرچہ فطرت جو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کر

مزید پڑھیے

اک دانش نورانی اک دانش برہانی

اک دانش نورانی اک دانش برہانی ہے دانش برہانی حیرت کی فراوانی اس پیکر خاکی میں اک شے ہے سو وہ تیری میرے لیے مشکل ہے اس شے کی نگہبانی اب کیا جو فغاں میری پہنچی ہے ستاروں تک تو نے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی ہو نقش اگر باطل تکرار سے کیا حاصل کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5294 سے 6203