قومی زبان

طلوع اسلام

دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی افق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی عروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑا سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے شکوہ ترکمانی ...

مزید پڑھیے

عورت

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

مزید پڑھیے

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی تین سو سال سے ہیں ہند کے مے خانے بند اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی میری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ...

مزید پڑھیے

عقل گو آستاں سے دور نہیں

عقل گو آستاں سے دور نہیں اس کی تقدیر میں حضور نہیں دل بینا بھی کر خدا سے طلب آنکھ کا نور دل کا نور نہیں علم میں بھی سرور ہے لیکن یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں ایک بھی صاحب سرور نہیں اک جنوں ہے کہ با شعور بھی ہے اک جنوں ہے کہ با شعور نہیں ناصبوری ہے ...

مزید پڑھیے

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں

اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسم اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا مہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام اس ...

مزید پڑھیے

ہر شے مسافر ہر چیز راہی

ہر شے مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میداں تو میر لشکر نوری حضوری تیرے سپاہی کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی یہ بے سوادی یہ کم نگاہی دنیائے دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے کردار بے سوز گفتار واہی

مزید پڑھیے

جو بھی سوکھے گل کتابوں میں ملے اچھے لگے

جو بھی سوکھے گل کتابوں میں ملے اچھے لگے ہوں وہ لمحہ یا بشر چھوٹے ہوئے اچھے لگے برگ و گل پہ تو ہمیں شبنم بڑی اچھی لگی اشک لیکن کب ترے رخسار پہ اچھے لگے دل کشی تھی انسیت تھی یا محبت یا جنون سب مراحل تجھ سے جو منسوب تھے اچھے لگے کاغذی کشتی کا رشتہ خوب ہے آلوکؔ سے جھوٹھے جتنے بھی ...

مزید پڑھیے

بعض خط پر اثر بھی ہوتے ہیں

بعض خط پر اثر بھی ہوتے ہیں نامہ بر چارہ گر بھی ہوتے ہیں حسن کی دل کشی پہ ناز نہ کر آئنے بد نظر بھی ہوتے ہیں تم ہوئے ہم سفر تو یہ جانا راستے مختصر بھی ہوتے ہیں جان دینے میں سر بلندی ہے پیار کا مول سر بھی ہوتے ہیں اک ہمیں منتظر نہیں آلوکؔ منتظر بام و در بھی ہوتے ہیں

مزید پڑھیے

مری قربتوں کی خاطر یوں ہی بے قرار ہوتا

مری قربتوں کی خاطر یوں ہی بے قرار ہوتا جو مری طرح اسے بھی کہیں مجھ سے پیار ہوتا نہ وہ اس طرح بدلتے نہ نگاہ پھیر لیتے جو نہ بے بسی کا میری انہیں اعتبار ہوتا وہ کچھ ایسے ڈھلتا مجھ میں کہ غم اس کے میرے ہوتے وہ جو سوگوار ہوتا تو میں اشک بار ہوتا مجھے چین لینے دیتی کہاں انقلابی ...

مزید پڑھیے

یہ راستے یہ نظارے بہار کا عالم

یہ راستے یہ نظارے بہار کا عالم ترے بغیر دل بے قرار کا عالم دھڑک اٹھے ہے ترا ذکر بھی اگر آئے یہ مرے دل پہ ترے اختیار کا عالم تجھے خیال بھی آئے نہ دور جانے کا جو دیکھ لے تو مرے انتظار کا عالم حسد نہ ہو جو رقیبوں کے ساتھ بھی دیکھوں تری وفا پہ مرے اعتبار کا عالم کبھی تو آئے رلانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5293 سے 6203