قومی زبان

سال یہ کون سا نیا ہے مجھے

سال یہ کون سا نیا ہے مجھے وہ ہی گزرا گزارنا ہے مجھے چوک اٹھتا ہوں آنکھ لگتے ہی کوئی سایہ پکارتا ہے مجھے کیوں بتاتا نہیں کوئی کچھ بھی آخر ایسا بھی کیا ہوا ہے مجھے تب بھی روشن تھا لمس سے تیرے ورنہ کب عشق نے چھوا ہے مجھے عادتاً ہی اداس رہتا ہوں ورنہ کس بات کا گلہ ہے مجھے اب کے ...

مزید پڑھیے

تمہارے سائے سے اکتا گیا ہوں

تمہارے سائے سے اکتا گیا ہوں میں اپنی دھوپ واپس چاہتا ہوں کہو کچھ تو زباں سے بات کیا ہے میں کیا پھر سے اکیلا ہو گیا ہوں مگر یہ سب مجھے کہنا نہیں تھا نہ جانے کیوں میں یہ سب کہہ رہا ہوں سبب کچھ بھی نہیں افسردگی کا میں بس خوش رہتے رہتے تھک گیا ہوں گلہ کرتا نہیں اب موسموں سے میں ان ...

مزید پڑھیے

چیخ کی اور میں کھنچا جاؤں

چیخ کی اور میں کھنچا جاؤں گھپ اندھیروں میں ڈوبتا جاؤں کب سے پھرتا ہوں اس توقع پر خود کو شاید کہیں میں پا جاؤں روح تک بجھ چکی ہے مدت سے تو جو چھو لے تو جگمگا جاؤں لمحہ لمحہ یہ چھانو گھٹتی ہے پتہ پتہ میں ٹوٹتا جاؤں دھوپ پی کر تمام صحرا کی ابر بن کر میں خود پہ چھا جاؤں دکھ سے کیسا ...

مزید پڑھیے

بجھے لبوں پہ تبسم کے گل سجاتا ہوا

بجھے لبوں پہ تبسم کے گل سجاتا ہوا مہک اٹھا ہوں میں تجھ کو غزل میں لاتا ہوا اجاڑ دشت سے یہ کون آج گزرا ہے گئی رتوں کی وہی خوشبوئیں لٹاتا ہوا تمہارے ہاتھوں سے چھٹ کر نہ جانے کب سے میں بھٹک رہا ہوں خلاؤں میں ٹمٹماتا ہوا نگل نہ جائے کہیں بے رخی مجھے تیری کہ رو پڑا ہوں میں اب کے تجھے ...

مزید پڑھیے

ان کی آمد ہے گل فشانی ہے

ان کی آمد ہے گل فشانی ہے رنگ خوشبو کی میزبانی ہے کیسی ہوگی نہ جانے شام عمر صبح جب ایسی سر گرانی ہے موت کا کچھ پتہ نہیں لیکن زندگی صرف نوحہ خوانی ہے مرنے والا ہے مرکزی کردار آخری موڑ پر کہانی ہے خودکشی جیسی کوئی بات نہیں اک ذرا مجھ کو بد گمانی ہے یہ جو بارود ہے ہواؤں میں آگ ...

مزید پڑھیے

تو کیا ہوا جو تماشائی ہو گیا ہوں میں

تو کیا ہوا جو تماشائی ہو گیا ہوں میں ترے ہی حق میں تو سب جھوٹ بولتا ہوں میں نہیں یہ دکھ تو کسی اور کے سبب ہے سب تمہیں تو دل سے رہائی بھی دے چکا ہوں میں ڈروں نہ کیوں میں بھلا تیری غم گساری سے کہ اس کے بعد کے سب موڑ جانتا ہوں میں یہ پوچھنا تھا کہ میری بھی کچھ جگہ ہے کہیں تمہارے در پہ ...

مزید پڑھیے

ذرا بھی کام نہ آئے گا مسکرانا کیا

ذرا بھی کام نہ آئے گا مسکرانا کیا تنا رہے گا اداسی کا شامیانہ کیا میں چاہتا ہوں تکلف بھی ترک کر دو تم نہیں ہیں اب وہ مراسم تو آنا جانا کیا تمام تیر و تبر کیا مرے لئے ہی ہیں مجھی پہ لگنا ہے دنیا کا ہر نشانہ کیا انہیں کو چیر کے بڑھنا ہے اب کنارے پر اتر گئے ہیں تو لہروں سے خوف کھانا ...

مزید پڑھیے

نفس نفس اضطراب سا کچھ

نفس نفس اضطراب سا کچھ ہے زندگی یا عذاب سا کچھ فریب کھاتی ہے پیاس اپنی قدم قدم ہے سراب سا کچھ نئی نئی گفتگو کا نشہ بڑی پرانی شراب سا کچھ کسی وسیلے تو رات گزرے نہ نیند ہے اور نہ خواب سا کچھ ہیں چشم گریاں کو غم ہزاروں چلو کریں انتخاب سا کچھ ان اچھے لوگوں میں واقعی کیا کہیں نہیں ...

مزید پڑھیے

جب پیارا گلہ سناتا ہے

جب پیارا گلہ سناتا ہے عشق تازہ بدن میں آتا ہے ہوش جاتا ہے سر سوں سب یک بار جب گھونگھٹ کھول مکھ دکھاتا ہے تب عدو دیکھ کر مجھے میرا مار کے مثل پیچ کھاتا ہے خاک ہوتا ہے بلکہ جل اس وقت مجھ کو خلوت میں جب بلاتا ہے مجھ کو لے جا پیاس اپس گھر میں بادۂ وصل پھر پلاتا ہے کر مجازی میں فن ...

مزید پڑھیے

خیالات رنگیں نہیں بولتے اس کو جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے

خیالات رنگیں نہیں بولتے اس کو جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے دو رنگی سوں جانا گزر دل سوں اول بزاں جا کے واں ایک رنگوں میں رہیے وہ وحشت کے جنگل میں ہو کر پریشاں پہاڑوں سے غم کے نہ ہو سنگ ہرگز شرر ہو کے چھڑ سنگ تنکے سوں جلدی سکل روح ہو برق رنگوں میں رہیے نہیں موج دریا کی دہشت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5281 سے 6203