سال یہ کون سا نیا ہے مجھے
سال یہ کون سا نیا ہے مجھے وہ ہی گزرا گزارنا ہے مجھے چوک اٹھتا ہوں آنکھ لگتے ہی کوئی سایہ پکارتا ہے مجھے کیوں بتاتا نہیں کوئی کچھ بھی آخر ایسا بھی کیا ہوا ہے مجھے تب بھی روشن تھا لمس سے تیرے ورنہ کب عشق نے چھوا ہے مجھے عادتاً ہی اداس رہتا ہوں ورنہ کس بات کا گلہ ہے مجھے اب کے ...