کیوں نہ ہو ذکر محبت کا مرے نام کے ساتھ
کیوں نہ ہو ذکر محبت کا مرے نام کے ساتھ عمر کاٹی ہے اسی درد دل آرام کے ساتھ مجھ کو دنیا سے نہیں اپنی تباہی کا گلا میں نے خود ساز کیا گردش ایام کے ساتھ اب وہی زیست میں ہے یہ مرے دل کا عالم جیسے کچھ چھوٹتا جاتا ہے ہر اک گام کے ساتھ تجھ سے شکوہ نہیں ساقی تری صہبا نے مگر دشمنی کوئی ...