قومی زبان

کیوں نہ ہو ذکر محبت کا مرے نام کے ساتھ

کیوں نہ ہو ذکر محبت کا مرے نام کے ساتھ عمر کاٹی ہے اسی درد دل آرام کے ساتھ مجھ کو دنیا سے نہیں اپنی تباہی کا گلا میں نے خود ساز کیا گردش ایام کے ساتھ اب وہی زیست میں ہے یہ مرے دل کا عالم جیسے کچھ چھوٹتا جاتا ہے ہر اک گام کے ساتھ تجھ سے شکوہ نہیں ساقی تری صہبا نے مگر دشمنی کوئی ...

مزید پڑھیے

قہر کی کیوں نگاہ ہے پیارے

قہر کی کیوں نگاہ ہے پیارے کیا محبت گناہ ہے پیارے دل کو اپنی ہی جلوہ گاہ سمجھ آ نظر فرش راہ ہے پیارے پھیر لی تو نے جب سے اپنی نظر میری دنیا سیاہ ہے پیارے شک بھی کس پر مری محبت پر جس کا تو خود گواہ ہے پیارے تیری معصوم سی نظر کی قسم یہی وجہ گناہ ہے پیارے دو نگاہیں جہاں پہ مل ...

مزید پڑھیے

نظر خموش ہوئی عرض نا تمام کے بعد

نظر خموش ہوئی عرض نا تمام کے بعد کچھ اور کہہ نہ سکے اشک بے کلام کے بعد یہ مغبچے ترے ساقی ابھی ہیں خیرہ بہت ہر ایک جام تہی اور صلائے عام کے بعد بس اتنی بات کے کیا کیا ہیں بزم میں چرچے وہ مسکرا سے دیے تھے مرے سلام کے بعد نماز جام پڑھی شیخ نے نہیں لیکن عجب سا نور ہے رخ پر طلوع شام کے ...

مزید پڑھیے

ہوا ناسازگار گلستاں معلوم ہوتی ہے

ہوا ناسازگار گلستاں معلوم ہوتی ہے اگر ہنستی بھی ہیں کلیاں فغاں معلوم ہوتی ہیں خوشی میں اپنی خوش بختی کہاں معلوم ہوتی ہے قفس میں جا کے قدر آشیاں معلوم ہوتی ہے ہر اک کے ظرف کی وسعت یہاں معلوم ہوتی ہے محبت آدمی کا امتحاں معلوم ہوتی ہے کبھی شاید محبت کا کوئی حاصل نکل آئے ابھی تو ...

مزید پڑھیے

ساتھ ہو کوئی تو کچھ تسکین سی پاتا ہوں میں

ساتھ ہو کوئی تو کچھ تسکین سی پاتا ہوں میں تیرے آگے جا کے تنہا اور گھبراتا ہوں میں سامنے آتے ہی ان کے چپ سا ہو جاتا ہوں میں جیسے خود اپنی تمناؤں سے شرماتا ہوں میں اک مسلسل ضبط ہی کا نام شاید عشق ہے اب تو نظروں تک کو آنکھوں ہی میں پی جاتا ہوں میں دیکھ سکتے کاش تم میری تمناؤں کا ...

مزید پڑھیے

رہروی ہے نہ رہنمائی ہے

رہروی ہے نہ رہنمائی ہے آج دور شکستہ پائی ہے عقل لے آئی زندگی کو کہاں عشق ناداں تری دہائی ہے ہے افق در افق رہ ہستی ہر رسائی میں نارسائی ہے شکوے کرتا ہے کیا دل ناکام عاشقی کس کو راس آئی ہے ہو گئی گم کہاں سحر اپنی رات جا کر بھی رات آئی ہے جس میں احساس ہو اسیری کا وہ رہائی کوئی ...

مزید پڑھیے

ارماں کو چھپانے سے مصیبت میں ہے جاں اور

ارماں کو چھپانے سے مصیبت میں ہے جاں اور شعلہ کو دباتے ہیں تو اٹھتا ہے دھواں اور انکار کیے جاؤ اسی طور سے ہاں اور ہونٹوں پہ ہے کچھ اور نگاہوں سے عیاں اور خود تو نے بڑھائی ہے یہ تفریق جہاں اور تو ایک مگر روپ یہاں اور وہاں اور دل میں کوئی غنچہ کبھی کھلتے نہیں دیکھا اس باغ میں کیا آ ...

مزید پڑھیے

مری بات کا جو یقیں نہیں مجھے آزما کے بھی دیکھ لے

مری بات کا جو یقیں نہیں مجھے آزما کے بھی دیکھ لے تجھے دل تو کب کا میں دے چکا اسے غم بنا کے بھی دیکھ لے یہ تو ٹھیک ہے کہ تری جفا بھی اک عطا مرے واسطے مری حسرتوں کی قسم تجھے کبھی مسکرا کے بھی دیکھ لے مرا دل الگ ہے بجھا سا کچھ ترے حسن پر بھی چمک نہیں کبھی ایک مرکز زیست پر انہیں ساتھ لا ...

مزید پڑھیے

ہر جلوہ پہ نگاہ کیے جا رہا ہوں میں

ہر جلوہ پہ نگاہ کیے جا رہا ہوں میں آنکھوں کو خضر راہ کئے جا رہا ہوں میں مٹنے نہ پائے تازگی لذت گناہ توبہ بھی گاہ گاہ کیے جا رہا ہوں میں کیسی یہ زندگی ہے کہ پھر بھی ہے شوق زیست گوہر نفس اک آہ کیے جا رہا ہوں میں اشکوں کی مشعلوں کو فروزاں کیے ہوئے طے التجا کی راہ کیے جا رہا ہوں ...

مزید پڑھیے

ہر انقلاب کی سرخی انہیں کے افسانے

ہر انقلاب کی سرخی انہیں کے افسانے حیات دہر کا حاصل ہیں چند دیوانے خدائے ہر دوجہاں خوب ہے تری تقسیم زمیں پہ دیر و حرم اور فلک پہ میخانے ہماری جا بھی کہیں ہے خداے‌‌ دیر و حرم حرم میں غیر ہیں اور بت کدہ میں بیگانے نہ پوچھ دور‌‌‌ حقیقت کی سختیوں کو نہ پوچھ ترس گئے لب افسانہ گو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5240 سے 6203