قومی زبان

رخ اپنا آئنہ مجھ کو بنا کے دیکھ لیا

رخ اپنا آئنہ مجھ کو بنا کے دیکھ لیا مری نگاہ کے پردے میں آ کے دیکھ لیا جو دوست تھے انہیں دشمن بنا کے دیکھ لیا زباں پہ دل کی تمنا کو لا کے دیکھ لیا حقیقت غم ہستی کے نقش مٹ نہ سکے طلسم خانۂ ارماں بنا کے دیکھ لیا وہ بے خبر مرے سوز جگر سے پھر بھی نہیں ہر اک نگاہ پہ پردہ گرا کے دیکھ ...

مزید پڑھیے

جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہار تمنا کون کرے

جب دل میں ذرا بھی آس نہ ہو اظہار تمنا کون کرے ارمان کیے دل ہی میں فنا ارمان کو رسوا کون کرے خالی ہے مرا ساغر تو رہے ساقی کو اشارا کون کرے خودداریٔ سائل بھی تو ہے کچھ ہر بار تقاضا کون کرے جب اپنا دل خود لے ڈوبے اوروں پہ سہارا کون کرے کشتی پہ بھروسا جب نہ رہا تنکوں پہ بھروسا کون ...

مزید پڑھیے

زندگی گو کشتۂ آلام ہے

زندگی گو کشتۂ آلام ہے پھر بھی راحت کی امید خام ہے ہاں ابھی تیری محبت خام ہے تیرے دل میں کاوش انجام ہے عشق ہے میں ہوں دل ناکام ہے اس کے آگے بس خدا کا نام ہے آ کہاں ہے تو فریب آرزو آج ناکامی سے لینا کام ہے میں وہی ہوں دل وہی ارماں وہی ایک دھوکا گردش ایام ہے اپنے جی میں یہ کہ دنیا ...

مزید پڑھیے

دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا

دنیا ہے یہ کسی کا نہ اس میں قصور تھا دو دوستوں کا مل کے بچھڑنا ضرور تھا اس کے کرم پہ شک تجھے زاہد ضرور تھا ورنہ ترا قصور نہ کرنا قصور تھا تم دور جب تلک تھے تو نغمہ بھی تھا فغاں تم پاس آ گئے تو الم بھی سرور تھا اس اک نظر کے بزم میں قصے بنے ہزار اتنا سمجھ سکا جسے جتنا شعور تھا اک ...

مزید پڑھیے

صبح نو آ گئی تیرگی مٹ گئی شور ہے ہر طرف انقلاب آ گیا

صبح نو آ گئی تیرگی مٹ گئی شور ہے ہر طرف انقلاب آ گیا مجھ کو ڈر ہے اندھیرا کوئی رات کا منہ پہ ڈالے سحر کی نقاب آ گیا حسن کی یہ ادا بھی ہے کتنی حسیں اک تبسم میں سب کچھ ہے کچھ بھی نہیں اپنی اپنی سمجھ اپنا اپنا یقیں ہر سوال نظر کا جواب آ گیا بزم ہستی میں ہنگامہ برپا کیے کوئی گیتا لیے ...

مزید پڑھیے

جو شب سیاہ سے ڈر گئے کسی شام ہی میں بھٹک گئے

جو شب سیاہ سے ڈر گئے کسی شام ہی میں بھٹک گئے وہی تاجدار‌ سحر بنے جو سیاہیوں میں چمک گئے نہ بنایا منہ کسی جام پر نہ لگایا دل کسی جام سے جو لبوں تک آئے وہ پی لیے جو چھلک گئے وہ چھلک گئے ہے حیات جہد نفس نفس رہ آشیاں ہے قفس قفس جو نہ نوک خار پہ چل سکے رہ زندگی سے بھٹک گئے تجھے کچھ خبر ...

مزید پڑھیے

خموشی ساز ہوتی جا رہی ہے

خموشی ساز ہوتی جا رہی ہے نظر آواز ہوتی جا رہی ہے نظر تیری جو اک دل کی کرن تھی زمانہ ساز ہوتی جا رہی ہے نہیں آتا سمجھ میں شور ہستی بس اک آواز ہوتی جا رہی ہے خموشی جو کبھی تھی پردۂ غم یہی غماز ہوتی جا رہی ہے بدی کے سامنے نیکی ابھی تک سپر انداز ہوتی جا رہی ہے غزل ملاؔ ترے سحر بیاں ...

مزید پڑھیے

جہاں کو ابھی تاب الفت نہیں ہے

جہاں کو ابھی تاب الفت نہیں ہے بشر میں ابھی آدمیت نہیں ہے تکلف اگر ہے حقیقت نہیں ہے تصنع زبان محبت نہیں ہے ضروری ہو جس کے لئے ایک دوزخ وہ میرے تصور کی جنت نہیں ہے مرے دل میں اک تو ہے تجھ سے حسیں تر مجھے اب تری کچھ ضرورت نہیں ہے محبت یقیناً خلاف خرد ہے مگر عقل ہی اک حقیقت نہیں ...

مزید پڑھیے

دیکھا کچھ آج یوں کسی غفلت شعار نے

دیکھا کچھ آج یوں کسی غفلت شعار نے میں اپنی عمر رفتہ کو دوڑا پکارنے ہنگامۂ شباب کی پونچھو نہ سر گذشت اپنے چمن کو لوٹ لیا خود بہار نے پیکان تیر زہر میں اتنے بجھے نہ تھے کچھ اور کر دیا ہے نظر کو خمار نے تمت بخیر دل کی شکایت کی داستاں ہونٹوں کو سی دیا نگۂ شرمسار نے ہمت پڑی نہ شیخ ...

مزید پڑھیے

یہ دل آویزیٔ حیات نہ ہو

یہ دل آویزیٔ حیات نہ ہو اگر آہنگ حادثات نہ ہو تیری ناراضگی قبول مگر یہ بھی کیا بھول کر بھی بات نہ ہو زیست میں وہ گھڑی نہ آئے کہ جب ہات میں میرے تیرا ہات نہ ہو ہنسنے والے رلا نہ اوروں کو صبح تیری کسی کی رات نہ ہو عشق بھی کام کی ہے چیز اگر یہی بس دل کی کائنات نہ ہو کون اس کی جفا کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5239 سے 6203