کیا روکے قضا کے وار تعویذ
کیا روکے قضا کے وار تعویذ قلعہ ہے نہ کچھ حصار تعویذ چوٹی میں ہے مشک بار تعویذ یا فتنۂ روزگار تعویذ دونوں نے نہ درد دل مٹایا گنڈے کا ہے رشتہ دار تعویذ کیا نام علی میں بھی اثر ہے چاروں ٹکڑے ہیں چار تعویذ ڈرتا ہوں نہ صبح ہو شب وصل ہے مہر وہ زرنگار تعویذ ہم کو بھی ہو کچھ امید ...