قومی زبان

فلک کے نہ ان ماہ پاروں کو دیکھو

فلک کے نہ ان ماہ پاروں کو دیکھو جو مٹی میں ہیں ان ستاروں کو دیکھو کبھی کارواں بھی نمودار ہوگا نگاہیں جمائے غباروں کو دیکھو نکل کر کبھی شہر سود و زیاں سے محبت کے اجڑے دیاروں کو دیکھو چمن میں یہ کس چال سے چل رہے ہو نہ پھولوں کو دیکھو نہ خاروں کو دیکھو زباں حسن کی معتبر کب ہوئی ...

مزید پڑھیے

راز ہستی تشنۂ تعبیر ہے تیرے بغیر

راز ہستی تشنۂ تعبیر ہے تیرے بغیر زندگی تقصیر ہی تقصیر ہے تیرے بغیر زیست کی ہر کامیابی بھی مری نظروں میں خاک ایک بے بنیاد سی تعمیر ہے تیرے بغیر جس کو ہونا چاہیے تھا تازہ دم کلیوں کا ہار وہ نفس کا سلسلہ زنجیر ہے تیرے بغیر ہاں وہی لب جو تبسم کا خزانہ تھا کبھی آج رہن نالہ شب گیر ہے ...

مزید پڑھیے

جھجک اظہار ارماں کی بہ آسانی نہیں جاتی

جھجک اظہار ارماں کی بہ آسانی نہیں جاتی خود اپنے شوق کی دل سے پشیمانی نہیں جاتی تڑپ شیشے کے ٹکڑے بھی اڑا لیتے ہیں ہیرے کی محبت کی نظر جلدی سے پہچانی نہیں جاتی افق پر نور رہ جاتا ہے سورج ڈوبنے پر بھی کہ دل بجھ کر بھی نظروں کی درخشانی نہیں جاتی سوئے دل آ کے اب چشم کرم بھی کیا بنا ...

مزید پڑھیے

کام عشق بے سوال آ ہی گیا

کام عشق بے سوال آ ہی گیا خودبخود اس کو خیال آ ہی گیا تو نے پھیری لاکھ نرمی سے نظر دل کے آئینے میں بال آ ہی گیا دو مری گستاخ نظروں کو سزا پھر وہ نا گفتہ سوال آ ہی گیا زندگی سے لڑ نہ پایا جوش دل رفتہ رفتہ اعتدال آ ہی گیا حسن کی خلوت میں دراتا ہوا عشق کی دیکھو مجال آ ہی گیا غم بھی ...

مزید پڑھیے

فرق جو کچھ ہے وہ مطرب میں ہے اور ساز میں ہے

فرق جو کچھ ہے وہ مطرب میں ہے اور ساز میں ہے ورنہ نغمہ وہی ہر پردۂ آواز میں ہے ترجمان غم دل کون ہے اشکوں کے سوا اک یہی تار شکستہ تو مرے ساز میں ہے مرغ‌ آزاد اسیروں کو حقارت سے نہ دیکھ ان کی طاقت بھی ترے بازوئے پرواز میں ہے ایک لے دے کے تمنا ہے سو وہ بھی ناکام دل میں کیا ہے جو تری ...

مزید پڑھیے

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے تو نے روکا بھی تھا بندے کو خطا سے پہلے اشک آنکھوں میں ہیں ہونٹوں پہ بکا سے پہلے قافلہ غم کا چلا بانگ درا سے پہلے ہاں یہی دل جو کسی کا ہے اب آئینۂ حسن ورق سادہ تھا الفت کی جلا سے پہلے ابتدا ہی سے نہ دے زیست مجھے درس اس کا اور بھی باب تو ہیں باب ...

مزید پڑھیے

مرے جگر کی تاب دیکھ رخ کی شکستگی نہ دیکھ

مرے جگر کی تاب دیکھ رخ کی شکستگی نہ دیکھ فطرت عاشقی سمجھ قسمت عاشقی نہ دیکھ اور نظر وسیع کر پیش نگاہ ہی نہ دیکھ موت میں ڈھونڈ زندگی زیست میں نیستی نہ دیکھ جیسے ہر اک نفس نفس نوک سناں لیے ہوئے عشق کا خواب دیکھ لے عشق کی زندگی نہ دیکھ میں تو سرائے شوق میں دل کا کنول جلا چکا اب یہ ...

مزید پڑھیے

زیست ہے اک معصیت سوز دلی تیرے بغیر

زیست ہے اک معصیت سوز دلی تیرے بغیر ہاں محبت بھی ہے اک آلودگی تیرے بغیر شام غم تیرے تصور ہی سے آنکھوں میں چراغ ورنہ میرے گھر میں ہو اور روشنی تیرے بغیر یہ جہاں تنہا بھلا کیا مجھ کو دے پاتا شکست میں نے کب کھایا فریب دوستی تیرے بغیر رات کے سینہ میں ہے اک زخم جس کا نام چاند اک سنہری ...

مزید پڑھیے

گلشن ہے اسی کا نام اگر حیراں ہوں بیاباں کیا ہوگا

گلشن ہے اسی کا نام اگر حیراں ہوں بیاباں کیا ہوگا ہنگام بہاراں جب یہ ہے انجام بہاراں کیا ہوگا ساقی کے دیار رحمت میں ہندو و مسلماں کیا ہوگا اس بزم پاک نہاداں میں آلودۂ ایماں کیا ہوگا یہ جنگ تو لڑنا ہی ہوگی ہر برگ سے چاہے خوں ٹپکے کانٹوں سے جو گل ڈر جائے گا دارائے گلستاں کیا ...

مزید پڑھیے

چیز دل ہے رخ گلفام میں کیا رکھا ہے

چیز دل ہے رخ گلفام میں کیا رکھا ہے کیف صہبا میں ہے خود جام میں کیا رکھا ہے گنگناتا ہوا دل چاہیے جینے کے لئے اس نزاع سحر و شام میں کیا رکھا ہے کون کس طرح سے ہوتا ہے حریف مے زیست اور تلخابۂ ایام میں کیا رکھا ہے عشق کرتا ہے تو کر اور نگاہوں کو بلند رشتۂ رہگذر و بام میں کیا رکھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5238 سے 6203