فلک کے نہ ان ماہ پاروں کو دیکھو
فلک کے نہ ان ماہ پاروں کو دیکھو جو مٹی میں ہیں ان ستاروں کو دیکھو کبھی کارواں بھی نمودار ہوگا نگاہیں جمائے غباروں کو دیکھو نکل کر کبھی شہر سود و زیاں سے محبت کے اجڑے دیاروں کو دیکھو چمن میں یہ کس چال سے چل رہے ہو نہ پھولوں کو دیکھو نہ خاروں کو دیکھو زباں حسن کی معتبر کب ہوئی ...