آئینہ پیش آئینہ
ایک وجدان کے برگد کے گھنے پیڑ تلے ایک پل موند کے آنکھیں جو سمیٹا خود کو دامن وقت کی مانند وہ پل پھیل گیا جسم اور جان زماں اور مکاں ایک ہوئے خود چمکنے لگا تاریک حجاب سات رنگوں میں وہ تاریکی بٹی اور ان رنگوں کے دریاؤں سے زہرہ ناہید ثریا کے مزامیر کا نغمہ اٹھا بے کراں نور میں گھل مل ...