قومی زبان

آئینہ پیش آئینہ

ایک وجدان کے برگد کے گھنے پیڑ تلے ایک پل موند کے آنکھیں جو سمیٹا خود کو دامن وقت کی مانند وہ پل پھیل گیا جسم اور جان زماں اور مکاں ایک ہوئے خود چمکنے لگا تاریک حجاب سات رنگوں میں وہ تاریکی بٹی اور ان رنگوں کے دریاؤں سے زہرہ ناہید ثریا کے مزامیر کا نغمہ اٹھا بے کراں نور میں گھل مل ...

مزید پڑھیے

پیاسوں کا رشتہ

کنوئیں کے تلے میں کوئی پھینکے پتھر تو ممکن ہے چنگاریاں پھوٹ نکلیں ندی سوکھ جائے ہواؤں سے بجنے لگے جھیل تل کی کھنکتی ہوئی خشک مٹی مگر سمندر کبھی خشک ہوتا نہیں سمندر کو بے آب ہوتے ابھی تک تو دیکھا نہیں مگر یہ بھی سچ ہے اگر بادلوں کی وساطت نہ ہو سمندر سے پیاسوں کا رشتہ جڑتا نہیں

مزید پڑھیے

دعا

ان گنت شمسی نظاموں کے بکھیڑوں سے اگر اک ذرا فرصت ملے تو میری آنکھوں کی نمیدہ کور پر اشک ندامت کی طرف بھی دیکھ لینا جھلملاتا اک ستارہ جیسے استغفار کا کوئی وظیفہ یہ زمیں تیری مخلوقات کا ادنیٰ سا ذرہ اور اس ذرے کا میں جزو حقیر میرا حصہ نبض معنی کی خوش آہنگی میں لفظوں کو نچانا اپنے ...

مزید پڑھیے

تجدید

سن رہی ہو اینٹ پتھر کے سرکنے کی صدا ٹوٹی چھت پر بیٹھ کر آکاش کو تکتی ہو کیا اس کھنڈر کو چھوڑ کر آؤ چلیں میدان میں اس طرف وہ جھاڑیوں کا جھنڈ ہے حجلہ نما آؤ اس میں چل کے ہم اک دوسرے کو دیکھ لیں اور دیکھیں پتھروں کے یگ میں کیسا پیار تھا گھر بنے بگڑے، بسے اجڑے نگر ہر دور میں ایک یہ ...

مزید پڑھیے

پریشانیٔ دید

وہ پریشان ہے میری نظروں کو اپنے بدن سے لپٹتے چمٹتے ہوئے دیکھ کر کتنی بے چین ہے صندلیں جسم پر گویا لپٹے ہوئے سانپ ہی سانپ ہوں اور میں اس کے ہر انگ پر اپنی نظریں جمائے ہوئے سر بسر آنکھ ہوں زیر و بم زیر و بم پیچ و خم پیچ و خم ساق زانو جبیں پشت سر تا قدم میری لیزر شعاعوں کے اس جال ...

مزید پڑھیے

زباں دراز

میں اپنی بیماری بتانے سے معذور ہوں مجھے زبان کی عجیب بیماری ہو گئی ہے سو گفتگو سے پرہیز کرنے پر مجبور ہوں میرا لہجہ کرخت اور آواز بھاری ہو گئی ہے زبان میں فی لفظ ایک انچ اضافہ ہو رہا ہے پہلے بھی تو یہ کاندھوں پر پڑی تھی تمہیں میری مشکل کا اندازہ ہو رہا ہے تم جو مجھ سے بات کرنے پر ...

مزید پڑھیے

میں ہوا ہوں کہاں وطن میرا

میں ہوا ہوں کہاں وطن میرا دشت میرا نہ یہ چمن میرا میں کہ ہر چند ایک خانہ نشیں انجمن انجمن سخن میرا برگ گل پر چراغ سا کیا ہے چھو گیا تھا اسے دہن میرا میں کہ ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں کیا بگاڑے گی انجمن میرا ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے درد سر بن گیا بدن میرا

مزید پڑھیے

غبار و گرد نے سمجھا ہے رہنما مجھ کو

غبار و گرد نے سمجھا ہے رہنما مجھ کو تلاش کرتا پھرا ہے یہ قافلہ مجھ کو طویل راہ سفر پر ہیں پھوٹ پھوٹ پڑا نہ کیوں سمجھتے مرے پیر آبلہ مجھ کو شکست دل کی صدا ہوں بکھر بھی جانے دے خطوط و رنگ کی زنجیر مت پنہا مجھ کو زمین پر ہے سمندر فلک پہ ابر غبار اتارتی ہے کہاں دیکھیے ہوا مجھ ...

مزید پڑھیے

پھول کھلے ہیں لکھا ہوا ہے توڑو مت

پھول کھلے ہیں لکھا ہوا ہے توڑو مت اور مچل کر جی کہتا ہے چھوڑو مت رت متوالی چاند نشیلا رات جوان گھر کا آمد خرچ یہاں تو جوڑو مت ابر جھکا ہے چاند کے گورے مکھڑے پر چھوڑو لاج لگو دل سے منہ موڑو مت دل کو پتھر کر دینے والی یادو اب اپنا سر اس پتھر سے پھوڑو مت مت عمیقؔ کی آنکھوں سے دل ...

مزید پڑھیے

کون ہے یہ مطلع تخئیل پر مہتاب سا

کون ہے یہ مطلع تخئیل پر مہتاب سا میری رگ رگ میں بپا ہونے لگا سیلاب سا آگ کی لپٹوں میں ہے لپٹا ہوا سارا بدن ہڈیوں کی نلکیوں میں بھر گیا تیزاب سا خواہشوں کی بجلیوں کی جلتی بجھتی روشنی کھینچتی ہے منظروں میں نقشۂ اعصاب سا کس بلندی پر اڑا جاتا ہوں بر دوش ہوا آسماں بھی اب نظر آنے لگا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5231 سے 6203