قومی زبان

عمیقؔ چھیڑ غزل غم کی انتہا کب ہے

عمیقؔ چھیڑ غزل غم کی انتہا کب ہے یہ مالوے کی جنوں خیز چودھویں شب ہے مجھے شکایت تلخیٔ زہر غم کب ہے مرے لبوں پہ ابھی کیف شکر لب ہے لکیر کھنچتی چلی جا رہی ہے تابہ جگر فروغ مے ہے کہ مشق جراحت شب ہے یہ محویت ہے کہ رعب‌ جمال ہے طاری خلاف‌ رسم جنوں دل بہت مؤدب ہے کبھی حرم میں ہے کافر ...

مزید پڑھیے

بین ہوا کے ہاتھوں میں ہے لہرے جادو والے ہیں

بین ہوا کے ہاتھوں میں ہے لہرے جادو والے ہیں چندن سے چکنے شانوں پر مچل اٹھے دو کالے ہیں جنگل کی یا بازاروں کی دھول اڑی ہے سواگت کو ہم نے گھر کے باہر جب بھی اپنے پاؤں نکالے ہیں کیسا زمانہ آیا ہے یہ الٹی ریت ہے الٹی بات پھولوں کو کانٹے ڈستے ہیں جو ان کے رکھوالے ہیں گھر کے دکھڑے شہر ...

مزید پڑھیے

لمبی رات سے جب ملی اس کی زلف دراز

لمبی رات سے جب ملی اس کی زلف دراز کھل کر ساری گتھیاں پھر سے بن گئیں راز اس کی اک آواز سے شرمایا سنگیت سارنگی کا سوز کیا کیا ستار کا ساز میرا قائل ہو گیا یہ سارا سنسار رنگ ناز میں جب ملا میرا رنگ نیاز سازوں کا سنگیت کیا پایل کی جھنکار کون سنے اس شور میں دل تیری آواز ان آنکھوں ...

مزید پڑھیے

کہنے کو شمع بزم زمان و مکاں ہوں میں

کہنے کو شمع بزم زمان و مکاں ہوں میں سوچو تو صرف کشتۂ دور جہاں ہوں میں آتا ہوں میں زمانے کی آنکھوں میں رات دن لیکن خود اپنی نظروں سے اب تک نہاں ہوں میں جاتا نہیں کناروں سے آگے کسی کا دھیان کب سے پکارتا ہوں یہاں ہوں یہاں ہوں میں اک ڈوبتے وجود کی میں ہی پکار ہوں اور آپ ہی وجود کا ...

مزید پڑھیے

ہم کہ جو بیٹھے ہوئے ہیں اپنے سر پکڑے ہوئے

ہم کہ جو بیٹھے ہوئے ہیں اپنے سر پکڑے ہوئے آپ ہی زنجیر ہیں اور آپ ہی جکڑے ہوئے شام پیلی راکھ میں خون شفق کا انجماد رات جیسے خواب یخ بستہ ہوں دن اکڑے ہوئے رنگ کے پہرے ہیں رخساروں کی آب و تاب پر اور رنگوں کو ہیں زلفوں کی لٹیں جکڑے ہوئے دھوپ نے ناخن ڈبوئے ہیں گلوں کے خون میں زخم ...

مزید پڑھیے

عینک کے دونوں شیشے ہی اٹے ہوئے تھے دھول میں

عینک کے دونوں شیشے ہی اٹے ہوئے تھے دھول میں ہاتھ پڑ گیا کانٹوں پر پھولوں کے بدلے بھول میں چھوتے ہی آشائیں بکھریں جیسے سپنے ٹوٹ گئے کس نے اٹکائے تھے یہ کاغذ کے پھول ببول میں عشق کے ہجے بھی جو نہ جانیں وہ ہیں عشق کے دعویدار جیسے غزلیں رٹ کر گاتے ہیں بچے اسکول میں اب راتوں کو بھی ...

مزید پڑھیے

یوں ہوا ہے چاک ملبوس یقیں سلتا نہیں

یوں ہوا ہے چاک ملبوس یقیں سلتا نہیں پھینک دینا بھی ہے مشکل دوسرا ملتا نہیں خواب جو دیکھے نہ تھے ان کی سزا تو مل گئی بارہا دیکھا جنہیں ان کا صلہ ملتا نہیں چل رہی ہے سانس کی آندھی اڑا جاتا ہے دل آس کا پتا ہے ایسا ڈال سے ہلتا نہیں میری ہمت دیکھیے اس دشت میں لیتا ہوں سانس نقش پائے ...

مزید پڑھیے

ہے نور خدا بھی یہاں عرفان خدا بھی

ہے نور خدا بھی یہاں عرفان خدا بھی یہ ذات کہ ہے وادیٔ سینا بھی حرا بھی اس بن میں کیا کرتی ہے تپ میری انا بھی اس شہر میں ہے کار گۂ ارض و سما بھی کرتا ہوں طواف اپنا تو ملتی ہے نئی راہ قبلہ بھی ہے یہ ذات مرا قبلہ نما بھی خود آگہی و خود نگہی کا ہے یہ انعام اور جرم شناسایٔ عالم کی سزا ...

مزید پڑھیے

اکثر رات گئے تک میں چوکھٹ پر بیٹھا رہتا ہوں

اکثر رات گئے تک میں چوکھٹ پر بیٹھا رہتا ہوں سگریٹ پیتا چاند کو تکتا من میں بکتا رہتا ہوں ریک پہ رکھ کر بھول گیا تھا اس کے چہرے ایسی کتاب ہاتھ میں جب آ جاتی ہے تو پہروں پڑھتا رہتا ہوں مرمر کا پتھر بن جاتی ہے جب پورے چاند کی رات اپنی نظروں کی چھینی سے مورتیں گھڑتا رہتا ہوں آخری شو ...

مزید پڑھیے

عرض مدعا کرتے کیوں نہیں کیا ہم نے

عرض مدعا کرتے کیوں نہیں کیا ہم نے خواہشوں کو حسرت میں خود بدل دیا ہم نے نت نئی امیدوں کے ٹانک ٹانک کر پیوند زندگی کے دامن کو عمر بھر سیا ہم نے رنج و غم اٹھائے ہیں فکر و فن بھی پائے ہیں زندگی کو جتنا بھی جی سکے جیا ہم نے صبح کا نیا سورج کچھ تو روشنی لے گا شام سے جلایا ہے آس کا دیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5232 سے 6203