عمیقؔ چھیڑ غزل غم کی انتہا کب ہے
عمیقؔ چھیڑ غزل غم کی انتہا کب ہے یہ مالوے کی جنوں خیز چودھویں شب ہے مجھے شکایت تلخیٔ زہر غم کب ہے مرے لبوں پہ ابھی کیف شکر لب ہے لکیر کھنچتی چلی جا رہی ہے تابہ جگر فروغ مے ہے کہ مشق جراحت شب ہے یہ محویت ہے کہ رعب جمال ہے طاری خلاف رسم جنوں دل بہت مؤدب ہے کبھی حرم میں ہے کافر ...