پل
بڑی مدتوں میں مرے صحن کی میٹھی نیم ایک دم گونج اٹھی ہری پتیوں میں کہیں کوئی باجا بجا کوئی سر پگھل کر ہواؤں میں بہنے لگا بڑی مدتوں میں درخت آج پھر مجھ سے کچھ کہنے سننے لگا کوئی سر پگھل کر ہواؤں میں بہنے لگا میں تبدیل ہونے لگا لگا ریل کی سیٹی سن کر کوئی لومڑی چیختی ہو لگا ہارن سن کر ...