قومی زبان

محبت

محبت ایسا چشمہ ہے جو سوکھا ہی نہیں کرتا محبت ایسا پودا ہے جو پت جھڑ میں بھی پھلتا ہے محبت ایسا دریا ہے کبھی بپھرا نہیں کرتا محبت ایسا لمحہ ہے جو ہمیشہ امر رہتا ہے محبت ایسا جذبہ ہے جو مر کر بھی نہیں مرتا محبت ایسا سپنا ہے جو کبھی پورا نہیں ہوتا محبت ایسا بچہ ہے کہ جس کی ضد کے آگے ہر ...

مزید پڑھیے

بے خودی

تجھ سے بات کرتی ہے دن سے رات کرنی ہے تیرے نام اب میں نے اپنی ذات کرنی ہے

مزید پڑھیے

خیال یار کا سکہ اچھالنے میں گیا

خیال یار کا سکہ اچھالنے میں گیا جنوں خریطۂ زر تھا سنبھالنے میں گیا لہو جگر کا ہوا صرف رنگ دست حنا جو سودا سر میں تھا صحرا کھنگالنے میں گیا گریز پا تھا بہت حسن پارۂ ہستی سو عرصہ عمر کا زنجیر ڈالنے میں گیا نہال یادوں کی چاندی میں شب تو دن سارا کسی کے ذکر کا سونا اچھالنے میں ...

مزید پڑھیے

تاب کھو بیٹھا ہر اک جوہر خاکی میرا

تاب کھو بیٹھا ہر اک جوہر خاکی میرا جانے کس رنگ میں ہوگا گل خوبی میرا ضبط گریہ میں ہے مشاق تمنا تو بھی قطرہ قطرہ سہی دامن تو بھگوتی میرا چاک وحشت سے اتارا تو کرم بھی فرما یوں ہی کب سے ہے دھرا کوزۂ ہستی میرا تیری خوشبو ترا پیکر ہے مرے شعروں میں جان یوں ہی نہیں یہ طرز مثالی ...

مزید پڑھیے

تیری عنایتوں کا عجب رنگ ڈھنگ تھا

تیری عنایتوں کا عجب رنگ ڈھنگ تھا تیرے حضور پائے قناعت میں لنگ تھا صحرا کو روندنے کی ہوس پا بہ گل ہے اب یوں تھا کبھی کہ دامن آفاق تنگ تھا دامن کو تیرے تھام کے راحت بڑی ملی اب تک میں اپنے آپ سے مصروف جنگ تھا ہنگام یاد دل میں نہ آہٹ نہ دستکیں شورش کدے میں رات خموشی کا رنگ تھا تو ...

مزید پڑھیے

غزلوں سے تجسیم ہوئی تکمیل ہوئی

غزلوں سے تجسیم ہوئی تکمیل ہوئی نقطے نقطے سے میری ترسیل ہوئی نوچ رہی ہے روح کے ریشے ریشے کو اک خواہش جو رفتہ رفتہ چیل ہوئی مرنے لگا رگ رگ میں سفاکی کا زہر شہر دل کی آب و ہوا تبدیل ہوئی ایک جہان لا یعنی غرقاب ہوا ایک جہان معنی کی تشکیل ہوئی مصر جاں ثاقبؔ سبز و شاداب ہوا جب سے ...

مزید پڑھیے

بدن کے لقمۂ تر کو حرام کر لیا ہے

بدن کے لقمۂ تر کو حرام کر لیا ہے کہ خوان روح پہ جب سے طعام کر لیا ہے بتاؤ اڑتی ہے بازار جاں میں خاک بہت بتاؤ کیا ہمیں اپنا غلام کر لیا ہے یہ آستانۂ حسرت ہے ہم بھی جانتے ہیں دیا جلا دیا ہے اور سلام کر لیا ہے مکاں اجاڑ تھا اور لا مکاں کی خواہش تھی سو اپنے آپ سے باہر قیام کر لیا ...

مزید پڑھیے

ترے خیال کے جب شامیانے لگتے ہیں

ترے خیال کے جب شامیانے لگتے ہیں سخن کے پاؤں مرے لڑکھڑانے لگتے ہیں جو ایک دست بریدہ سواد شوق میں ہے علم اٹھائے ہوئے اس کے شانے لگتے ہیں میں دشت ہو کی طرف جب اڑان بھرتا ہوں تری صدا کے شجر پھر بلانے لگتے ہیں خبر بھی ہے تجھے اس دفتر محبت کو جلانے جلنے میں کیا کیا زمانے لگتے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

نظام بست و کشاد معنی سنوارتے ہیں

نظام بست و کشاد معنی سنوارتے ہیں ہم اپنے شعروں میں تیرا پیکر اتارتے ہیں عجب طلسمی فضا ہے ساری بلائیں چپ ہیں یہ کس بیاباں میں رات دن ہم گزارتے ہیں غبار دنیا میں گم ہے جب سے سوار وحشت عطش عطش دشت و کوہ و دریا پکارتے ہیں مسافران گماں رہیں کیوں کمر خمیدہ چلو یہ پشتارۂ تمنا اتارتے ...

مزید پڑھیے

نہ تو بیکرانی دل رہی نہ تو مد و جزر طلب رہا

نہ تو بیکرانی دل رہی نہ تو مد و جزر طلب رہا ترے بعد بحر خیال میں نہ خروش اٹھا نہ غضب رہا مرے سامنے سے گزر گیا وہ غزال دشت مراد کا میں کھڑا رہا یوں ہی بے صدا مجھے پاس حد ادب رہا اسے جاں گزاروں سے کیا شغف اسے خاکساروں سے کیا شرف وہ فضیلتوں کے دیار میں بہ حضور پائے نسب رہا وہی بیعت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5226 سے 6203