قومی زبان

حیران بہت تابش حسن دیگراں تھی

حیران بہت تابش حسن دیگراں تھی تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں میں کہاں تھی پھیلا کیے دریائے محبت کے کنارے ان جھیل سی آنکھوں میں کوئی چیز نہاں تھی ہر جشن طرب ناک پہ مجلس کا اثر تھا ہر اڑتے ہوئے بوسے میں گرد غم جاں تھی یا ارض یقیں پر تھی بچھی برف کی چادر یا گھیرے ہوئے پھر مجھے دنیائے ...

مزید پڑھیے

دشت بلائے شوق میں خیمے لگائے ہیں

دشت بلائے شوق میں خیمے لگائے ہیں ابن زیاد وقت سے کہہ دو ہم آئے ہیں اک کہکشاں ہی تنہا نہیں وجہ دل کشی آنچل پہ تیرے ہم نے بھی موتی لٹائے ہیں تہہ کر چکے بساط غم و فکر روزگار تب خانقاہ عشق و محبت میں آئے ہیں تم ہی نہیں علاج محبت سے بے نیاز ہم نے بھی احتیاط کے پرزے اڑائے ہیں لگتا یہی ...

مزید پڑھیے

صبا بناتے ہیں غنچہ دہن بناتے ہیں

صبا بناتے ہیں غنچہ دہن بناتے ہیں تمہارے واسطے کیا کیا سخن بناتے ہیں سنان و تیر کی لذت لہو میں رم کرے ہے ہم اپنے آپ کو کس کا ہرن بناتے ہیں یہ دھج کھلاتی ہے کیا گل ذرا پتا تو چلے کہ خاک پا کو تری پیرہن بناتے ہیں وہ گل عذار ادھر آئے گا سو داغوں سے ہم اپنے سینے کو رشک چمن بناتے ...

مزید پڑھیے

خوش آمدید کہتا گلوں کا جہان تھا

خوش آمدید کہتا گلوں کا جہان تھا اک دشت بے اماں مگر درمیان تھا میری برہنہ پشت تھی کوڑوں سے سبز و سرخ گورے بدن پہ اس کے بھی نیلا نشان تھا کس خیمۂ ملال میں راتیں بسر ہوئیں کس غم کدے پہ مہرباں نامہربان تھا روشن الاؤ ہوتے ہی آیا ترنگ میں وہ قصہ گو خود اپنے میں اک داستان تھا اس سمت ...

مزید پڑھیے

میراث بے بہا بھی بچائی نہ جا سکی

میراث بے بہا بھی بچائی نہ جا سکی اک ذلت وفا تھی اٹھائی نہ جا سکی وعدوں کی رات ایسی گھنی تھی سیاہ تھی قندیل اعتبار بجھائی نہ جا سکی چاہا تھا تم پہ واریں گے لفظوں کی کائنات یہ دولت سخن بھی کمائی نہ جا سکی وہ سحر تھا کہ رنگ بھی بے رنگ تھے تمام تصویر یار ہم سے بنائی نہ جا سکی ہم ...

مزید پڑھیے

گرد باد شرار ہیں ہم لوگ

گرد باد شرار ہیں ہم لوگ کس کے جی کا غبار ہیں ہم لوگ آ کہ حاصل ہو ناز عز و شرف آ تری رہ گزار ہیں ہم لوگ بے کجاوہ ہے ناقۂ دنیا اور زخمی سوار ہیں ہم لوگ جبر کے باب میں فروزاں ہیں حاصل اختیار ہیں ہم لوگ پھر بدن میں تھکن کی گرد لیے پھر لب جوئے بار ہیں ہم لوگ باد صرصر کبھی تو باد ...

مزید پڑھیے

نمود رنگ و بو نے مار ڈالا

نمود رنگ و بو نے مار ڈالا اسی کی آرزو نے مار ڈالا نہ دنیا ہی کا رکھا اور نہ دیں کا دل مدہوش تو نے مار ڈالا تکلم کا فسوں اللہ اکبر کسی کی گفتگو نے مار ڈالا نہ روداد حباب زندگی پوچھ خرام آب جو نے مار ڈالا خدا واعظ سے سمجھے حشر کے دن ہمیں اس بے وضو نے مار ڈالا زمانہ کے امیںؔ منہ ...

مزید پڑھیے

یوں دل ہے سر بہ سجدہ کسی کے حضور میں

یوں دل ہے سر بہ سجدہ کسی کے حضور میں جیسے کہ غوطہ زن ہو کوئی بحر نور میں ہنس ہنس کے کہہ رہی ہے چمن کی کلی کلی آتا ہے لطف حسن کو اپنے ظہور میں ساقی نگاہ مست سے دیتا ہے جب کبھی لگتے ہیں چار چاند ہمارے سرور میں کھائیں جناب شیخ فریب قیاس و وہم یہ کیف جاں نواز کہاں چشم حور میں مثل ...

مزید پڑھیے

تعلق توڑنے والے

برس بھر کی خوشی کے ہم نے کچھ نقشے بنائے تھے بھرے تھے ان میں کیسے کیسے دلکش رنگ ابھی وہ رنگ سوکھے بھی نہ تھے بارش نے آ گھیرا وہ نقشے ہو گئے بد رنگ کہاں سے یک بہ یک برسے یہ پتھر کہ خوابوں کی ہر اک کھڑکی کے شیشے چور کر ڈالے کہاں سے تیزی و تندی بھری یہ شعلگی آئی کہ جس نے آرزو و شوق کی ...

مزید پڑھیے

لا پرواہی

پلکوں پر سپنوں کی کرچی بچی رہ گئی بس اتنی سی لا پرواہی کیا ہونی تھی اندراسن تک ڈول اٹھا فرمانوں کے ڈھیر لگ گئے پھانسی سولی جنم قید کے چرچے گھر گھر ہونے لگے تخت سے تختے تک کا نقشہ پھر سے دیکھا جانے لگا

مزید پڑھیے
صفحہ 5227 سے 6203