قومی زبان

سرخ ستارہ

تم سمجھتے ہو یہ شب آپ ہی ڈھل جائے گی خود ہی ابھرے گا نئی صبح کا زریں پرچم میں سمجھتا ہوں کسی صبح درخشاں کے عوض قہر کی ایک نئی رات کو دے گی یہ جنم اور اس رات کی تاریکی میں کھو جائیں گے مکتب و خانقہ و دیر و کلیسا و حرم دیو ظلمات کی ٹھوکر سے نہ پائیں گے پناہ یہ شوالے، یہ مساجد، یہ ...

مزید پڑھیے

التجا

تم روٹھ چکے دل ٹوٹ چکا اب یاد نہ آؤ رہنے دو اس محفل غم میں آنے کی زحمت نہ اٹھاؤ رہنے دو یہ سچ کہ سہانے ماضی کے لمحوں کو بھلانا کھیل نہیں یہ سچ کہ بھڑکتے شعلوں سے دامن کو بچانا کھیل نہیں رستے ہوئے دل کے زخموں کو دنیا سے چھپانا کھیل نہیں اوراق نظر سے جلووں کی تحریر مٹانا کھیل ...

مزید پڑھیے

خواب جو بکھر گئے

جنہیں سحر نگل گئی، وہ خواب ڈھونڈھتا ہوں میں کہاں گئی وہ نیند کی، شراب ڈھونڈھتا ہوں میں مجھے نمک کی کان میں مٹھاس کی تلاش ہے برہنگی کے شہر میں لباس کی تلاش ہے وہ برف باریاں ہوئیں کہ پیاس خود ہی بجھ گئی میں ساغروں کو کیا کروں کہ پیاس کی تلاش ہے گھرا ہوا ہے ابر ماہتاب ڈھونڈھتا ہوں ...

مزید پڑھیے

ماضی کے جب زخم ابھرنے لگتے ہیں

ماضی کے جب زخم ابھرنے لگتے ہیں آنکھوں سے جذبات بکھرنے لگتے ہیں ذہن و دل میں اس کی یادیں آتے ہی لفظ شرارت خود ہی کرنے لگتے ہیں کر کے یاد ترے ماتھے کا بوسہ ہم انگلی اب ہونٹھوں پہ دھرنے لگتے ہیں تیری میں تصویر کبھی جو دیکھوں تو میرے دن اور رات ٹھہرنے لگتے ہیں بن تیرے سانسوں کی ...

مزید پڑھیے

تیری تصویروں کو دیکھ پگھلتی ہیں

تیری تصویروں کو دیکھ پگھلتی ہیں اب یہ آنکھیں ہم سے نہیں سنبھلتی ہیں ہر دن چہرہ الگ طرح کا ہوتا ہے غم کی شکلیں بھی تو روز بدلتی ہیں ان خوابوں کا سچ ہونا کیا ممکن ہے جن کے خاطر آنکھیں میری جلتی ہیں جانے کس کا لہجہ اس پر حاوی ہے اس کی باتیں اب انگار اگلتی ہیں دل کے قبرستان کا ...

مزید پڑھیے

اپنی آنکھوں کو کبھی ٹھیک سے دھویا ہی نہیں

اپنی آنکھوں کو کبھی ٹھیک سے دھویا ہی نہیں سچ کہوں آج تلک کھل کے میں رویا ہی نہیں میرے لفظوں سے مرا درد جھلک جاتا ہے جبکہ اس درد کو آواز میں بویا ہی نہیں اک دفعہ نیند میں خوابوں کا جنازہ دیکھا بعد اس کے میں کبھی چین سے سویا ہی نہیں تنگ گلیوں میں محبت کی بھٹکتے ہیں سب میں نے کوشش ...

مزید پڑھیے

میں کیول اب خود سے رشتہ رکھوں گا

میں کیول اب خود سے رشتہ رکھوں گا یعنی میں اب خود کو تنہا رکھوں گا دنیا سے ہر راز چھپانے کے خاطر میں اپنا چہرہ انجانا رکھوں گا منڈی میں غم کا میں ہی سوداگر ہوں اس خاطر میں دام زیادہ رکھوں گا تیری صورت تیری چاہت یادیں سب چھوٹے سے اس دل میں کیا کیا رکھوں گا وعدہ ہے تجھ سے میں تیری ...

مزید پڑھیے

سچ کہنے کا آخر یہ انجام ہوا

سچ کہنے کا آخر یہ انجام ہوا ساری بستی میں میں ہی بدنام ہوا قتل کا مجرم رشوت دے کر چھوٹ گیا قسمت دیکھو میرے سر الزام ہوا میرے غم پر وہ اکثر ہنس دیتا ہے یہ تو غم کا غیر مناسب دام ہوا زخم یہاں تو ویسے کا ویسا ہی ہے تم بتلاؤ تم کو کچھ آرام ہوا تنہائی نے جب سے قید کیا مجھ کو باہر آنے ...

مزید پڑھیے

تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے تری یادوں سے

تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے تری یادوں سے ایک انجان سا رشتہ ہے تری یادوں سے رات بے چین سی سردی میں ٹھٹھرتی ہے بہت دن بھی ہر روز سلگتا ہے تری یادوں سے ہجر کے غم نے مجھے مار دیا تھا تو کیا مر کے جینا بھی تو سیکھا ہے تری یادوں سے آج پھر سے جو ہوا قید تو یہ سوچوں ہوں کل ہی سوچا تھا کہ بچنا ...

مزید پڑھیے

مجھ میں ہے کچھ درد بچا سو زندہ ہوں

مجھ میں ہے کچھ درد بچا سو زندہ ہوں چارہ گر نے بول دیا سو زندہ ہوں میں بس مرنے ہی والا تھا پھر اس نے ہونٹوں پر اک لمس رکھا سو زندہ ہوں مجھ کو ایک فقیر نے سکے کے بدلے دی ہوگی بھرپور دعا سو زندہ ہوں سوچا تھا اب موت سی نیند میں سوؤں گا خواب میں کچھ نایاب دکھا سو زندہ ہوں جینا وہ بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5209 سے 6203